سَیِّدُنَا فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ یہ اُس مرتبے کی وجہ سے ہے جوآپ لوگوں کو معلوم ہے۔ ‘‘ پھر ایک دن آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے مجھے بلا کران بزرگوں کے ساتھ بٹھا یا تو مجھے یہی گمان ہوا کہ آپ انہیں میرا علمی مقام دکھانا چاہتے ہیں ۔ پس آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمان: : ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) (پ۳۰، النصر:۱) کے بارے میں آپ لوگ کیا کہتے ہیں ؟ ‘‘ بعض نے کہا : ’’ اس میں حکم دیا گیا کہ جب ہماری مددکی جائے اورفتح نصیب تو ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد کریں اوراس سے مغفرت چاہیں ۔ ‘‘ کچھ حضرات خاموش رہے، انہوں نے کچھ جواب نہ دیا ۔ پھرآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے مجھ سے فرمایا: ’’ اے ابن عباس!کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ نہیں ۔ ‘‘ فرما یا: ’’ تم کیا کہتے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اس سے حضور نبی کر یم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکاوصال مبارک مرادہے، جس کی اللہ عَزَّ وَجَلَّنےآپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کو خبر دیتے ہوئے فرمایا: : ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی فتح ونصرت آجائے تو یہ آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے وصال کی علامت ہے۔: ( فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳) ) پ۳۰، النصر:۳) پس اپنے ربّ کی حمدبیان کرواوراس سے مغفرت چاہو، بے شک!وہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔ ‘‘ سَیِّدُنَا فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ میرے نزدیک بھی اس آیت کا یہی مطلب ہے جو تم نے بیان کیا ۔ ‘‘
بیٹوں کے ساتھ تمثیل کی وجہ:
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بدری صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ بٹھایا تو انہوں نے کہا کہ اِن کی مثل تو ہمارے بیٹے ہیں ۔واضح رہے کہ یہ قول حقیقت کے اظہار کے لیے تھا کہ واقعی ہمارے بیٹے اُن کی عمر کے ہیں ، نہ کہ بطورِحسد تھا۔چنانچہ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ یہ بات کہنے والے حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے۔ انہوں نے یہ بات حسد وغیرہ کی وجہ سے نہ کی بلکہ اظہارِ حقیقت کے لیے کہا تھا کہ ان کی عمر کے برابر تو