Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
292 - 662
(1)	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے نیک بندوں کی زبان میں  ایسی تاثیر  دیتا ہے کہ ان کی باتیں سن کر بڑے بڑے گناہگاہ  بھی  تائب ہو جاتے ہیں ۔
(2)	جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کسی  کو توبہ کی توفیق دینا چاہتا ہےتو اس کے ‏لیے  توبہ کے ذرائع بھی خود ہی مہیا فرمادیتا  ہے،  ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے تمام گناہوں سے توبہ کریں اور نیکیوں بھری زندگی گزاریں ۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی جوانی اور بڑھاپا دونوں میں گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے،  ہمیں ایمان پر سلامتی اور ایمان پر ہی خاتمہ نصیب فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
 حدیث نمبر:113	
سَیِّدُنَا ابن عَبَّاس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا  کا عِلْمِی مقام
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُدْخِلُنِیْ مَعَ اَشْیَاخِ بَدْرٍ، فَکَاَنَّ بَعْضَہُمْ وَجَدَ فِی ْ نَفْسِہٖ فَقَالَ لِمَ یَدْخُلُ ہَذَامَعَنَا وَلَنَا اَبْنَاء ٌمِثْلُہُ؟  فَقَالَ عُمَرُ : اِنَّہُ مِنْ حَیْثُ عَلِمْتُمْ. فَدَعَانِیْ  ذَاتَ یَوْمٍ فَاَدْخَلَنِیْ مَعَہُمْ،  فَمَارَاَ یْتُ اَنَّہُ دَعَانِیْ یَوْمَئِذٍ إِلَّا لِیُرِیَہُمْ قَالَ: مَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ قَوْلِ اللّٰہِ تَعَالَی: ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) فَقَالَ بَعْضُہُمْ: اُمِرْنَا نَحْمَدُ اللّٰہَ وَنَسْتَغْفِرُہُ اِذَا نُصِرْنَا وَفُتِحَ عَلَیْنَا. وَسَکَتَ بَعْضُہُمْ فَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا. فَقَالَ لِیْ: اَکَذَالِکَ تَقُوْلُ یَا اِبْنَ عَبَّاسٍ؟  فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَمَا تَقُوْلُ؟  قُلْتُ:ہُوَ  اَجَلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَعْلَمَہُ لَہُ قَال: ( اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ (۱) ) وَذٰلِکَ عَلَامَۃُ اَجَلِکَ: ( فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳) )  فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: مَا اَعْلَمُ مِنْہَا اِلَّا مَا تَقُوْلُ.  (1) 
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا ابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمجھے اَصحابِ بدرکے ساتھ بٹھایا کرتے تھے۔ ان میں سے بعض بزرگوں کو یہ بات محسوس ہوئی تو انہوں نے کہا: ’’ یہ  ہمارے  ساتھ کیوں  شریک ہوتے ہیں ؟ اِن کی  عمر کے تو ہمارے بیٹے ہیں ۔ ‘‘ 



________________________________
1 -   بخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ:  فسبح بحمد ربک۔۔۔ الخ ، ۳‏ / ۳۹۱،  حدیث: ۴۹۷۰۔