معاملات کی تدبیراورعبادات میں تیری طرف رُجوع کیا۔ ‘‘ (1)
مُفَسِّرشَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ (تیری ہی مدد سے جنگ کی) یعنی خدایا میں اپنی قوت و طاقت یا فوج و ہتھیار کے بھروسہ پر جہاد نہیں کرتا صرف تیرے بھروسہ پر کرتا ہوں ، یہ تو کل و ہ قُوَّت ہے جو کفار کے پاس نہیں صرف مسلمانوں کو حاصل ہے۔ ‘‘ (2)
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی میں نےدین کے دشمنوں سے جہاد کیا اورمضبوط دلائل سے اُن کے دلائل کا رد کیا، اورتلوار اور مضبوط نیزوں سے اُن کی کمر توڑ دی۔ ‘‘ (3)
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ میں تیری عزت کے وسیلے سے پناہ چاہتا ہوں ۔یعنی تیرے غلبہ و قدرت و طاقت کے ذریعے پناہ مانگتا ہوں ، بیشک تمام عزت تیرے ہی لیے ہے، تیرے سوا کوئی موجود، معبود اور مقصود نہیں ہے۔میں تجھ ہی سے سوال کرتا اور تجھ ہی سے پناہ مانگتا ہوں ۔ اور میں پناہ چاہتا ہوں ہدایت کے بعد گمراہی سےاور تو نے مجھے تیرے حکم اور فیصلے کو ظاہر و باطِن (دل و جان) سے تسلیم کرنے، تیری جناب میں جھکنے اور تیرے دُشمنوں سے لڑنے کی توفیق دی۔ اور مجھے ہر حال میں تیری عزت و نصرت سے اُمید ہے۔ ‘‘ عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ اَنْ تُضِلَّنِیْکا معنی ہے کہ لمحہ بھر کے لیے بھی مجھے اپنی نظرِ رحمت سے جدا نہ کرنا بلکہ اپنی بارگاہ میں دائمی حاضری کا شرف بخشنا۔ یا پھر معنی یہ ہے کہ اپنے اَحکام کی بَجَا آوَرِی سے لمحہ بھر بھی دُور نہ کرنا بلکہ مجھے تیری دائمی بندگی کرنے والا بنانا۔یا پھر معنی یہ ہے کہ لمحہ بھر بھی مجھے اِیمان سے دُور نہ کرنا بلکہ مجھے ہمیشہ تیری اور جو کچھ تیری بارگاہ سے آیا اُس کی تصدیق کرنے والا بنانا۔ ‘‘
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ اِس میں کسی قسم کا کوئی تردُّدنہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد:”اَنْ تُضِلَّنِیْ“اِضْلالسے مشتق نہیں کہ اِس کا
________________________________
1 - عمدۃ القاری،کتاب التھجد،باب التھجدباللیل،۵ / ۴۴۳، ۴۴۴، تحت الحدیث: ۱۱۲۰ملخصا۔
2 - مرآۃ المناجیح، ۴ / ۶۰۔
3 - دلیل الفالحین، باب فی الیقین والتوکل، ۱ / ۲۷۱، تحت الحدیث: ۷۵۔