بتائیے آپ کا منبر شراب خانے کے درمیان میں رکھواؤں یا مٹکوں کے درمیان؟ ‘‘ میں نے پوچھا : ’’ تجھ پر یہ راز کیسے ظاہرہوا؟ ‘‘ کہا: ’’ اُسی نے ظاہر کیا ہےجو کسی شئے کو ”کُنْ“ (یعنی ہوجا) فرماتا ہےتو وہ ہوجاتی ہے۔ جوفرشتہ آج رات آپ کے پاس آیاتھا ، وہی میرے پاس بھی آیا اور مجھے حکم دیاکہ میں آپ کے لیے شراب خانے میں منبر بچھا دوں ۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسے تم کہہ رہے ہو تو وہی کرو جس کاتمہیں حکم دیا گیا ہے۔ ‘‘ پھرجب صبح خوب روشن ہو گئی۔تومیں نے دیکھا کہ تمام شرابی حلقہ بنائے انتظار میں بیٹھے ہیں ۔ میں منبر پربیٹھ گیا کچھ دیر کے لیے سر جھکايا پھر یوں بیان شروع کیا:
’’ سب خوبیاں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اپنے محبوب بندوں کے دلوں کواپنے قرب کی لذت عطا فرمائی اور انہیں اپنے مے خانۂ وصال میں داخل کیا اور اپنی شرابِِ طہور سے سیراب کر کے اپنے غیر سے بے خبر کر دیا۔ اور محب اپنے محبوب کے علاوہ کسی شے میں مشغول نہیں ہوتا۔ جب ربِّ جلیلعَزَّ وَجَلَّ نے ان پر تجلِّی فرمائی تو جمالِ قدرت کے مشاہدے کے وقت اُن کے ہوش اڑ گئے۔ اے خواہشات کی شراب میں بدمست ہونے والو! تم محبتِ الٰہی کے مے خانے میں داخل ہوجاؤاورشراب کے مٹکوں کے بجائے قُرب کے گھڑوں کا مشاہدہ کرو ، بخشنے والے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں صاحب ِوقارمَردوں کو دیکھوکہ ان پر خوشی و مسرت کے جام گردش کر رہے ہیں ، خالص شراب ِطہورکے پیالوں نے ان کو دنیا کی شراب سے بے پرواہ کر دیا ہے، ان کے پیالے اُن کی خوشی و مسرت، ان کی شراب ذِکْرِ الٰہی ، ان کی خوشبو اُن کا قرآن ، ان کی شمع ان کی سماعت اور ان کے نغمے توبہ و اِسْتِغْفَارہیں ۔ جب رات تاریک ہوتی ہے اور سب لوگ سو جاتے ہیں تو ربّ ِکائنات عَزَّ وَجَلَّ ان پر تجلِّی فرماتا اورپردے اُٹھا دیتاہے۔اوراس کے محبوب بندے ایسے جہاں کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جس کاتصورکسی کی عقل میں آیا، نہ کسی کے ذہن میں اس کا خیال گزرا۔ اے عقل مندو!ذرا غورتوکروکہ اَخروٹ اور اس کے چِھلکے کے درمیان کتنا فاصلہ ہوتا ہے، دلوں کی ٹہنیوں کو حرکت دینے والے اورحضرت سَیِّدُنَا یعقوب و یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ملانے والے نے مجھے یہاں بیٹھنے کا اس لیے حکم فرمایا ہے تاکہ وہ تمہارے گناہوں اور نافرمانیوں کو بخش دے اور عفوورضا کی دولت کا تاج تمہارے