Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
288 - 662
 اِنحطاط ظاہر ہونے لگتا ہے۔ اور موت سر پر منڈلاتی پھرتی ہے۔یہ اللہ کی طرف رجوع کا وقت ہے اورجوانی میں رُجُوْعْ اِلَی اللہپیغمبری شیوہ ہے۔ ترمذی میں حضرت سَیِّدُنَاابوہريرہ  (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) سےمرفوع روایت ہے کہ سید عالَم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ میری اُمَّت کی عمریں ساٹھ60 اور ستر 70سالوں کے درمیان ہیں ۔ بہت تھو ڑے لوگ اس سے اوپر عُمر پاتے  ہیں ۔ الحا صل انسان ساٹھ 60سال تک قوی رہتا ہے اس کے بعد نقص اورہَرَم  (بڑھاپا)  شروع ہو جاتا ہے۔اس عمرمیں اللہ تعالٰیاس کے تمام عذرناقابلِ قبو ل کر دیتا ہے کیونکہ سن بلو غ سے ساٹھ 60سال تک  کافی وقت ہے جس میں وہ سوچ بچار کرسکتا ہے۔ ‘‘  (1) 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ابھی ہماری زندگی کی سانسیں باقی ہیں ،  اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کرلیں ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بڑے بڑے گناہ گاروں کو معاف فرمادیتا ہے۔چنانچہ، 
بوڑھے شرابی کی توبہ:
عراق کے مشہورمبلغ حضرت سیِّدُنامَنصوربن عَمار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں کہ ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ آسمان کادروازہ کھلااورایک نورانی فرشتے نے مجھ سےآ کر کہا : ’’  اے ابن عمار!خدائے جبَّار وقہَّار، دن رات کا خالق عَزَّ  وَجَلَّتمہیں سلام فرماتا ہے اور حکم  دیتا  ہے کہ کل  شراب خانے میں نصیحت بھرا بیان کرنا،  اس میں ہمارے بہت سے راز پوشیدہ ہیں اورہم تمہیں اپنی عجیب نشانیاں دکھائیں گے۔ ‘‘ 
میں گھبراکربیدارہوااوراسےاپناوہم سمجھ کر ”اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ“ پڑھااورسوچنے لگا کہ  آیاتِ قرآنیہ  اوراَحادیثِ مبارکہ نااہلوں کے سامنے شراب  خانے میں کیسے پڑھی جاسکتی ہیں ؟ چنانچہ میں نے وضو کیا اوردو رکعت نماز پڑھی اور سو گیا۔ وہی فرشتہ دوبارہ نظر آیا اور کہنے لگا :  ’’اے منصور! میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی کے حکم سے آیا ہوں ۔اٹھو اور شراب خانے میں  وعظ ونصیحت کرو ،  تمہاری حفاظت ہمارے ذمۂ کرم پر ہے۔ ‘‘  میں گھبرا کر بیدار ہوا اور سوچنے لگا  کہ کسی کو منبر اٹھوانے کے ‏لیے بلاتا ہوں ۔اتنے میں کسی نے دروازے پر دستک دی۔میں نے پوچھا:  ’’  کون؟ ‘‘  کہا: ’’ اے محترم!میں منبر اٹھانے کے ‏لیے حاضر ہوا ہوں ۔



________________________________
1 -   تفہیم البخاری،۹‏ / ۷۰۳.