Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
287 - 662
 جب تمام عمر میں قدرت کے باوجود عبادت  ترک کر تا رہا تو اب اس عمر میں اس کے پاس کوئی عذر نہیں بچا اب اسے   چاہیے کہ اِسْتِغْفَار کرے۔ ‘‘  (1) 
بڑھاپے کے بعد فقط موت ہے:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتےہیں : ’’ اس عبارت کے دومعنی ہیں : (۱) ایک یہ ( کہ) اَعْذَرَکےمعنی ہیں  ’’  عذردُور کردیتاہے۔ ‘‘  یعنی بابِ اِفعال کا ہمزہ سلب کے ‏لیے ہے۔ تب مطلب یہ ہوگا کہ بچپن اور جوانی میں غفلت کا عذرسنا جاسکے گا مگر جو بڑھاپے میں اللہ  تعالٰیکی طرف رجوع نہ کرے اس کا عذر قبول نہ ہوگا ۔کیونکہ بچپن میں جوانی کی امید تھی جوانی میں بڑھاپے کی، اب بڑھاپے میں سوا موت کے اور کس چیز کا انتظار ہے؟ اگر اب بھی عبادت نہ کرے تو سزا کے قابل ہے۔اس کا کوئی بہانہ قابل سننے کے نہیں ۔ (۲) دوسرےیہ کہ اَعْذَرَکے معنی ہیں  ’’ معذور رکھتا ہے۔ ‘‘ یعنی جو بوڑھا آدمی بڑھاپے کی وجہ سے زیادہ عبادت نہ کرسکے مگر جوانی میں بڑی عبادتیں کرتا رہا ہو تو اللہ تَعالٰیاسے معذورقرار دے کر اس کے نامۂ اعمال میں و ہی جوانی کی عبادت لکھتا ہے۔ساٹھ 60سال پورا بڑھاپا ہے۔بوڑھے نوکر کی پنشن ہوجاتی ہے وہ رؤف و رحیم ربّ بھی اپنے بوڑھے بندوں کی پنشن کردیتا ہے مگر پنشن اس کی ہوتی ہے جو جوانی میں خدمت کرتا رہے۔ ‘‘  (2) 
عمر کے چار حصے:
علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس حدیث  کے تحت فرماتے ہیں : ’’  اَطِبّاء کہتے ہیں عمر کے چار حصے ہیں : (۱) ایک حصہ سِن طُفُولِیّت ہے،  یہ تیس30 برس تک ہے۔ (۲) دوسراحصہ سِن شَباب ہے، یہ چالیس40برس تک ہے۔ (۳) تیسراحصہ سن کَہُولَت ہے،  یہ ساٹھ60برس تک ہے۔ (۴) چوتھا حصہ سن شَیْخوخت ہے،  یہ ساٹھ 60سال کے بعد ہے۔ اس میں انسان کی قوت  کمزور پڑ جاتی ہے۔جس میں نقص اور



________________________________
1 -   فتح الباری ،کتاب الرقاق، باب من بلغ ستین سنۃ، ۱۲‏ / ۲۰۲، تحت الحدیث:  ۶۴۱۹۔
2 -   مرآۃالمناجیح،۷‏ / ۸۹ ملتقطا۔