حدیث نمبر:112
ربّ تعالٰی کس کاعُذر قبول نہیں فرماتا ؟
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَعْذَرَاللّٰہُ اِلَی امْرِءٍ اَخَّرَ اَجَلَہُ حَتّٰی بَلَغَ سِتِّیْنَ سَنَۃً. (1)
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس شخص کے لیے کچھ عذر باقی نہیں چھوڑ تا جس کی عمر مُؤخر کردے یہاں تک کہ وہ ساٹھ 60سال تک پہنچ جائے ۔ ‘‘
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیحدیث کامعنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ علماء کرامرَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’ یعنی جب اُسے اتنی مدت تک مہلت دیتا ہے تو اس کے لیے کوئی عذر نہیں چھوڑتا۔ اوراَعْذَرَ الرَّجُلُاس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی شخص عُذر کے انتہائی مرحلے پر پہنچ جائے۔ ‘‘ (2)
عُذر باقی نہ چھوڑنے کا معنی:
عمدۃُالقاری میں ہے: ’’ یعنی اس عمر میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کا عُذر قبول نہیں فرماتا۔اب اسے چاہیے کہ اِسْتِغْفَار کرے، طاعت وفرمانبرداری اپنائے اورمکمل طورپرآخرت کی تیاری میں مشغول ہو جائے کیونکہ اب اس کے پاس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کوپیش کرنے کے لیے کوئی عذر نہیں رہا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےاسے اتنی لمبی عمراور عبادت پر قوّت دی (لیکن وہ پھر بھی فرمانبراری کی طرف نہ آیا ) تو اب اس کا کوئی عذرقبول نہیں فرمائے گا۔ ‘‘ (3)
فتح الباری میں ہے: ’’ یعنی اب وہ یہ عذر نہیں کر سکتا کہ اگر مجھے مہلت ملتی تو میں احکام ِالٰہی بجا لاتا۔
________________________________
1 - بخاری، کتاب الرقاق، باب من بلغ ستین سنۃ ، ۴ / ۲۲۴، حدیث: ۶۴۱۹۔
2 - ریاض الصالحین، باب الحث علی الازدیاد من الخیر فی اواخر العمر، ص۴۲، تحت الحدیث: ۱۱۲۔
3 - عمدۃ القاری، کتاب الرقاق ، باب من بلغ ستین سنۃ ، ۱۵ / ۵۰۳، تحت الباب۔