Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
285 - 662
 کرتے ہوئے فرمایا:  ’’ یعنی  کیا ہم نے تمہیں ساٹھ 60سال کی زندگی نہیں دی تھی؟  ‘‘ اس معنیٰ کی تائید  وہ حدیث پاک بھی کرتی ہے جسے ہم اس باب  میں بیان کریں گے ۔ایک قول یہ ہے  کہ اس سے اٹھارہ 18سال مراد ہیں ۔ بعض نے چالیس 40سال مراد ‏لیے  ہیں اور یہ قول  حضرت حسن بصری،  کلبی اور مسروق  ( بن سعید)  رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا ہے۔سَیِّدُنَا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے اسی طرح کا ایک قول  منقول ہے۔ منقول  ہے کہ اہل مدینہ میں سے جب کسی کی عمر چالیس 40سال ہوجاتی تو وہ اپنے آپ کو عبادت کے ‏لیے فارغ  کر لیتا۔ بعض کے نزدیک اس سے  بلوغت کی عمر  مراد ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمان:  (وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُؕ- )  کے بارے میں سَیِّدُنَا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور جمہور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’ اس سے مراد حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ والا صفات ہے ۔ ‘‘  ایک قول  کے مطابق اس سے مُراد بڑھاپا ہے۔ یہ قول عکرمہ اور ابن عیینہ وغیرہ رَحِمَہُمُ اللہُ کا ہے۔   واللہُ  اَعْلَمُ  (1) 
تفسیرروح البیان میں  ہے:  ’’ یعنی کیا ہم نے تمہیں مہلت نہ دی تھی اور تمہیں زندگی نہ بخشی تھی جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حا صل کر سکتا تھا۔ بالغ ہونے کے بعد انسان کو جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سےپختہ عقل دی جا ئےتو اس پر لازم  ہے کہ مخلوق میں غور و فکر کرے  اور یہ سمجھے کہ  عبادت کے لائق  صرف اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی کی ذات ہے،  جو سب کا خالق و مالک ہے۔اوراٹھارہ  یا بیس سال کی عمر میں  تو عقل و فکر کی قوت پہلے سے   مضبوط اور اس  پر  حجت  مزید مُؤکَّد ہو جاتی ہے ۔صحابۂ کرام اور تابعین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی ایک جماعت کے بارے میں منقول ہیں کہ جب وہ چالیس 40سال کی عمر کو پہنچتے یا بڑھاپے کے آثار پاتے تو عبادت کے ‏لیے اپنی کوششیں تیز کر دیتے ،  بستر لپیٹ  دیتے،  شب بیداری میں وقت گزارتے  اور لوگوں سے میل جول  کم کردیتے۔ ‘‘  (2) اللہ عَزَّ  وَجَلَّہمیں خوابِِ غفلت سے بیدار فرمائے ۔آمین
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   ریاض الصالحین، باب الحث علی الازدیاد من الخیر فی اواخر العمر، ص۴۱۔
2 -   تفسیر روح البیان، پ۲۲، فاطر ، تحت الآیۃ: ۳۷، ۷‏ / ۳۵۵ملتقطا۔