Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
284 - 662
با ب نمبر:12	  
آخری عمرمیں نیکیوں کی زیادتی کابیان
عمر  کےآخری حِصّے میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے پر اُبھارنے کا باب
پیدائش سے موت تک  زندگی کا ہرہرلمحہ قیمتی ہے۔لیکن  غفلت کے اندھیروں میں بھٹکنے والے اس قیمتی متاع کو بے دریغ ضائع کر تے ہیں ۔عنفوانِ شباب میں دنیا بدلنے کا عزم تو دل و دماغ   پرحاوی ہوتا ہےلیکن یادِ الٰہی سے یکسر غافل ہوتے ہیں ۔پھرجب بڑھاپا آ کر طرح طرح  ستاتا ہے تب بھی نیکیوں کی طرف مائل نہیں ہوتے،  بالآخر اسی غفلت میں دنیائے ناپائیدار سے قبر کی اندھیری کوٹھڑی میں اتار دئیے جاتے  ہیں ۔اِس کےبرعکس اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےنیک بندےہرہرسانس کوغنیمت جانتےہوئےمرتےدم تک رضائے الٰہی کے ‏لیےکوشاں رہتے ہیں ۔اُن کالڑکپن ،  جوانی اور بڑھاپا  عبادت ہی میں گزرتا ہے۔ بلکہ  جوں جوں عمر بڑھتی ہے  ان کی نیکیوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ وہ اس راز سے واقف ہوتے ہیں کہ   مقابلہ کرنے والا منزل کو دیکھ کر  اپنی رفتار بڑھاتا ہے ۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اَعمال کا دارو مدار خاتمے پر ہے۔ جس کا خاتمہ اچھا  اس کی آخرت اچھی۔ریاض الصالحین کا یہ باب ’’ آخری عمر میں نیکیوں کی کثرت  ‘‘ کے بارے میں ہے۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس باب میں ایک1آیت مبارکہ اور پانچ 5اَحادیث مبارکہ بیان فرمائی ہیں ۔پہلےآیت کا ترجمہ  اورتفسیر ملاحظہ کیجئے۔
عمرکےبارےمیں سوال
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُؕ-  (پ۲۲،  فاطر: ۳۷) 
ترجمہ ٔ کنزالایمان: کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی جس میں سمجھ لیتا جسےسمجھنا ہوتا اور ڈر سنانے والا تمہارے  پاس تشریف لایا تھا۔
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِییہ آیت نقل کرنے کے بعدفرماتے ہیں :  ’’ حضرت سَیِّدُنَاابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اورمحققین علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس آیت  کا معنی بیان