Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
283 - 662
(1)	انسان دینِ فطرت یعنی اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے لیکن بعد میں شیطان اسے گمراہ  کر کے دیگر باطل مذاہب کی طرف پھیر دیتا ہے۔
(2)	بندے کو چاہیے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے ہدایت کا سوال کرتا رہے کہ جسے وہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
(3)	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مخلوق سے وہ تمام خطاب جن میں اُن کے گناہوں کا ذکر ہے،  اُن سے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرشتے مراد نہیں ہیں کیونکہ یہ دونوں معصوم وگناہوں سے پاک ہیں ۔
(4)	اللہ عَزَّ  وَجَلَّبے نیاز ہے،  بندوں کے گناہ کرنے یا نیکی کرنے سے اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا، نیکیاں کرنے میں اس کے بندوں ہی کا فائدہ ہے اور گناہ کرنے میں بھی اس کے بندوں ہی کا نقصان ہے۔
(5)	ربّ عَزَّ  وَجَلَّکے خزانے بہت وسیع ہیں ،  اگر وہ اپنے خزانوں سے پوری دنیا کو بھی مالا مال کردے تو اس کے خزانے میں اتنی بھی کمی نہ ہوگی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈال کر نکالنے سے سمندر میں ہوتی ہے،  اس لیے ربّ عَزَّ  وَجَلَّسے ہروقت اس کا فضل وکرم طلب کرتے رہنا چاہیے۔
(6)	بندے کو اگر کوئی بھلائی پہنچے یا وہ کوئی نیک کام کرے تو اُسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی توفیق سمجھے نیز اس کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے نیکی کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔
(7)	اگر بندے کو کوئی بُرائی پہنچے تو اُسے چاہیے کہ اپنے آپ کو ملامت کرے ۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ظلم جیسے بڑے اور بُرے گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،  ہمیں تمام گناہوں سے بچنے،  دوسروں کو بچانے،  نیکیاں کرنے اور دوسروں کو ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ہمیشہ ہاتھ بھلائی کے واسطے اُٹھیں 
بچانا ظلم وستم سے مجھے سدا یارب
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد