بلا حساب ہو جنت میں داخلہ یارب
پڑوس خلد میں سَرور کا ہو عطا یارب
نیکیاں ربّ کی توفیق، گناہ شامت نفس:
مُفَسِّر شہِیر، مُحَدِّث کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ خلاصہ یہ ہے کہ بندہ نیکیوں کو ربّ تعالی کی توفیق سے سمجھے اور گناہوں کو اپنی شامت نفس سے جانے۔ بلکہ ہر نقص کو اپنی طرف منسوب کرے اور کمال کو ربّ تعالی کی طرف۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا تھا: ’’ وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِ یعنی بیمار میں ہوتا ہوں شفاء وہ دیتا ہے۔ ورنہ خیر و شر کا خالق و مالک ربّ تعالٰی ہی ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں ۔وَالْقَدْرُ خِیْرُہُ وَشَرُّہُ مِنَ ﷲ تَعَالٰی۔ ‘‘ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
”گیارھویں “کي نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے11مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ ظلم سے پاک و مُنَزَّہ ہےاور ظلم کو سختی سے ناپسند فرماتا ہے۔
(2) ظلم اتنا قبیح اور بُرا فعل ہے کہ اس کی حرمت پر دنیا کے تمام مذاہب ومسالک کا اجماع اور اتفاق ہے ۔
(3) ظلم کی بہت سی اقسام ہیں ، سب سے بڑا ظلم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر گناہ کو معاف فرمادے گا لیکن شرک کو معاف نہ فرمائے گا۔
(4) ظالم بہت بدنصیب شخص ہے اور اس کی بدنصیبی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ظالم سے مظلوم کا بدلہ خود لیتا ہے۔
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح ،۳ / ۳۵۶۔