Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
281 - 662
میں کمی نہ کروں گا اور بدکار کی سزا میں زیادتی نہ کروں گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیک کار کو زیادہ نہ دوں اور گنہگار کو معاف نہ کروں ۔ یہاں عدل کا ذکر ہے،  عدل فضل کے خلاف نہیں ۔ لہٰذا حدیث واضح ہے نہ آیات قرآنی کے خلاف ہے اور نہ دیگر احادیث کے مخالف۔ ‘‘  (1) 
خیر اور شر سے کیا مراد ہے؟ 
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’  جو خیر کو پائے یعنی ثواب اور نعمتیں یا خوش باش حیاتِ طیبہ تو اُسے چاہیے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد بیان کرے اِس بات پر کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اسے نیکیاں کرنے کی توفیق بخشی جن پر یہ ثواب مرتب ہوا اور یہ اس کا فضل اور رحمت  ہے۔اور جو اس کے علاوہ کوئی چیز پائے یعنی شر۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے لفظ شر کو ذکر نہیں فرمایا، ہمیں یہ بات سکھانے کے لیے کہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ جو بُرے لفظ ہوں انہیں زبان سے نہ نکالا جائے ، اسی طرح جو الفاظ اس کے مشابہ ہوں جن کو بُرا سمجھا جاتا ہو اور جن کو بولنے سے حیا کی جاتی ہو انہیں بھی زبان سے نہ نکالا جائے۔ اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس لفظ کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بولنے سے اجتناب فرمارہا ہے اس میں پڑنا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو کتنا سخت ناپسند ہوگا۔ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ حَیٌّ یعنی زندہ ہے،  کریم  یعنی کرم فرمانے والا ہے،  وہ پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے اور گناہوں کو بخشتا ہے ۔وہ کسی کی گرفت کرنے میں جلدی نہیں فرماتا اور نہ ہی کسی کا پردہ فاش فرماتا ہے۔اس کے بعد فرمایا ’’  جو شر کو پائے تو وہ پنے آپ ہی کو ملامت کرے۔“ کیونکہ اس نے رضائے الٰہی پر اپنی خواہشات اور لذات کو توجیح دی توعدل کے تقاضے کے مطابق وہ اسی چیز کا مستحق ہےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے فضل وکرم سے محروم رہے ۔ ‘‘  (2)  
معاف فضل وکرم سے ہو ہر خطا یارب
ہو مغفرت پئے سلطانِ انبیاء یارب



________________________________
1 -   مرآۃ المناجیح ،۳‏ / ۳۵۶۔
2 -   دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ، ۱‏ /  ۳۳۷، تحت الحدیث: ۱۱۱ملتقطا۔