Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
280 - 662
ہے؟ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :یعنی دریا وسمندر میں جب سوئی داخل کر کے نکالی جائے تو بظاہر دیکھنے میں اس  میں کوئی کمی نہیں ہوتی،  اسی طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خزانے سے ساری دنیا کو دینے سے بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی اس لیے کہ یہ اس کی رحمت اور کرم ہے اور یہ دونوں قدیم صفات ہیں اور ان کی کوئی حد نہیں اور جو غیر متناہی ہوتا ہے اس میں کمی ہونا محال ہے برخلاف اُس شے کے جو متناہی ہو ، کیونکہ اس میں کمی واقع ہوسکتی ہے جیسے سمندرکہ یہ زمین کی چیزوں میں سے سب سے بڑی شے ہے۔ بسا اوقات متناہی شے کا کثیر حصہ لے لینے سے بھی اس میں کمی واقع نہیں ہوتی جیسے آگ اور علم۔ ان کو لینے سے کمی نہیں آتی بلکہ علم تو دینے سے اور بڑھتا ہے۔ لہذا یہ واضح ہوگیا کہ سوئی کی مثال کیوں دی گئی اس کا مطلب یہ نہیں کہ حقیقت میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ یہ مخلوق کو سمجھانے کے لیے بطورِ مثال کہا گیا ہے تاکہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ اس قدر دینے سے بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خزانے میں اتنی سی بھی کمی نہیں آتی۔ ‘‘  (1) 
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ میری یہ عطا میرے خزانوں کو سوئی کی تری کی بقدر کم کردیں گے،  وہاں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سورج ہزار ہا سال سے دنیا کو ر وشنی دے رہا ہے مگر اس کی روشنی میں مطلقاً کمی نہ ہوئی۔ جب ربّ تعالٰی کی تجلیوں کا یہ حال ہے تو اس کے خزانو ں کا کیا حال ہوگا۔ اور یہ نسبت بھی فقط سمجھانے کے لیے ہے ورنہ ربّ تعالٰی کے خزانے غیر محدود ہیں اور اس کی عطائیں محدود کیونکہ لینے والے محدود ا ور محدود کی غیر محدود سے نسبت کیسی؟  ‘‘  (2) 
عدل فضل کے خلاف نہیں :
حدیث پاک میں ہے:”میں تمہیں اَعمال کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔“اس کی شرح میں مُفَسِّر شہِیر،  مُحَدِّث کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :  ’’ اس طرح کہ نیک کار کی جزاء 



________________________________
1 -   دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ، ۱‏ /  ۳۳۶، تحت الحدیث: ۱۱۱ ملخصا۔
2 -   مرآۃ المناجیح ،۳‏ / ۳۵۶۔