Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
28 - 662
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ  ہماری دنیاوآخرت بہتر بنائے ، ہمیں اپنی دائمی رضا سے مالا مال فرمائے ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:75 			
جامع اِسْتِغْفَار
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَااَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ:اَللّٰہُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَاِلَیْکَ اَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ،  اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِعِزَّتِکَ، لَا اِلٰہَ الَّا اَنْتَ اَنْ تُضِلَّنِیْ، اَنْتَ الْحَیُّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ، وَالْجِنُّ وَالْاِنسُ یَمُوْتُوْنَ. (1)  
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ہی مَروی ہے کہ حضور نبی اَکرم نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ کلمات پڑھا کرتے تھے:  ’’ اے میرے پروردگار! میں نے تیری اِطاعت کی،  تجھ ہی پر اِیمان لایا،  تجھ ہی پر بھروسہ کیا،  تیری ہی طرف رُجوع لایا اور تیری ہی مدد سے جنگ کی ، اے میرے پروردگار! میں تیرے گمراہ کرنے سے تیری عزت کی پناہ چاہتا ہوں ،  تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،  تو زندہ ہے،  تجھے کبھی موت نہیں آئے گی جبکہ تمام جن واِنس مر جا ئیں گے۔
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیالفاظ ِحدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ میں نے تیری اِطاعت کی ۔ یعنی تیرے حکم پر میں نے سرِ تسلیم خم  کیا،  تمام اَوَامِرو نَوَاہی  کوتسلیم کیا،  تیری اور تیرے تمام اَحکام کی تصدیق کی، تجھ ہی پر بھروسہ کیا۔یعنی ظاہری اَسباب سے قطعِ نظر کرتے ہوئے میں نے اپنے تمام اُمور تیرے سپرد کیے ۔ایک قول کے مطابق معنی یہ ہے کہ میں  نے قوت و طاقت سے بَری ہوکر اپنے معاملات تیری طرف پھیرے،  مجھے یقین ہے کہ مجھے وہی ملے گا جو تقدیر میں میرے ‏لیے لکھا جا چکا ہے۔ لہٰذامیں نے اپنے تمام اُمور تیرے سپرد کردئیے۔میں تیری ہی طرف رُجوع لایا۔یعنی میں نے اپنے 


________________________________
1 -    مسلم،کتاب الذکروالدعا،باب التعوذمن شر ما عمل ۔۔۔ الخ، ص۱۴۵۶،حدیث: ۲۷۱۷۔