سکتے۔ بلکہ اگر تم نیکی کروگے تواپنا ہی بھلا کروگے اوراگر بُرائی کرو گے تو اپنے لیے ہی بُرا کروگے۔ ‘‘ (1)
مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ (یعنی) تمہاری عبادتوں سے میرا نفع نہیں اور تمہارے گناہوں سے میر ا نقصان نہیں ، بلکہ ان میں نفع نقصان خود تمہارا ہے۔دنیا کے کسی بڑے پرہیز گار کو لے لو پھر سوچو کہ اگر تمام جہان کا دل اس پرہیزگار کا سا ہوجائے اور ساری دنیا اس نیک و صالح کی طرح نیکیاں ہمیشہ کیا کرے۔ (تو اس میں ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا کیا فائدہ؟ فائدہ تو ان تمام لوگوں کا ہے جو یہ نیکیاں کریں ۔) اس ترجمے سے یہ جملہ بالکل واضح ہوگیا، اس پر کوئی اعتراض نہ رہا۔لہٰذا کوئی شخص یہ سمجھ کر عبادت نہ کرے کہ میری عبادت سے ربّ تعالٰی کے خزانے بڑھ جائیں گے بلکہ اس کا احسان مانے کہ اس نے اپنے آستانے پر بلالیا۔ (سب کے نافرمان ہونے سے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا کوئی نقصان نہیں ۔) اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو پہلے جملے میں عرض کیا گیا کہ دنیا کے بادشاہوں کا رعایا کے بگڑ جانے سے نقصان ہوتا ہے، آمدنی میں کمی ہو جاتی ہے، خزانہ خالی رہ جاتا ہے۔ مگر ربّ تعالٰی وہ بے نیاز ہے کہ ساری خلق کی بدکاری سے اس کا کوئی نقصان نہیں ۔ خیال رہے کہ یہ مضمون (یعنی تمام لوگوں کا نافرمان ہوجانا) ایسا ہی ہے جیسے ربّ تعالٰی (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قول نقل کرتے ہوئے ) فرماتا ہے : ’’ اگر ربّ تعالٰی کے اولاد ہوتی تو پہلے میں ہی اُسے پوجتا۔ ‘‘ نہ ربّ تعالٰی کے اولاد ممکن ہے، نہ حضور انو ر صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا اسے پوجنا ممکن ۔ایسے ہی تمام بندوں کا گنہگارہوجانا غیر ممکن ہے ، فرشتے، انبیاء معصومین (کہ ان سے گناہ ہوہی نہیں سکتا) اور اولیاء محفوظین بِفَضْلِہٖ تَعَالٰی (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم سے) گناہ کرتے ہی نہیں ۔ ‘‘ (2)
کیا اللہکےخزانے میں کمی ہوسکتی ہے؟
حدیث پاک میں ہے :”اگر میں ہر شخص کا سوال پورا کردوں تو یہ میرے خزانوں کے مقابلے میں ایسا حقیر ہوگا جیسے سوئی کی تَری جب وہ دریا میں ڈبوئی جائے۔“ کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خزانے میں بھی کمی ہوسکتی
________________________________
1 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الدعوات، باب الاستغفار والتوبۃ ،۵ / ۱۵۶، تحت الحدیث: ۲۳۲۶ملخصا۔
2 - مرآۃ المناجیح،۳ / ۳۵۵۔