Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
278 - 662
حدیث میں خطاب عام بندوں سے ہے:
مُفَسِّرشَہِیر، مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ خطا کے معنی ہیں غلط راستے پر چلنا بھول کر ہو یا جان بوجھ کرلہذا اس میں خطائیں ،  بھول چوک،  عمداً  گناہ سب داخل ہیں ۔علامہ ابن حجر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا کہ یہاں روئے سخن  (یعنی خطاب) عام بندوں سے ہے۔ معصومین حضرات جیسے فرشتے،  انبیاء اس حکم سے خارج ہیں ۔ ‘‘  (1) 
شرک کے سوا تمام گناہ معاف:
جب بندہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو وہ جسے چاہتا ہے اس کے گناہ معاف فرمادیتا ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہر گناہ معاف فرمادیتا ہے سوائے کفروشرک کے۔ (2)  چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-  (پ۵،  النساء: ۴۸)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔
ربّ کو نفع  و ضرر پہنچانے سے کیا مراد ہے؟ 
حدیث میں ہے کہ تمام لوگ اگر متقی بن جائیں تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو کچھ نفع نہیں پہنچا سکتے اور اگر سب کے سب نافرمان ہوجائیں تو اسے کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو کوئی نفع و ضرر کیسے پہنچا سکتا ہے؟  یہ تو ممکن ہی نہیں ۔چنانچہ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ مراد یہ ہے کہ تم میرے نفع و ضرر کے مالک نہیں ہو پس اگر تم سب سے جس قدر ممکن ہوسکے میری عبادت کروتو میری سلطنت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتے اور اگر تم سب سے جس قدر ممکن ہوسکے میری نافرمانی کرو تو  مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا



________________________________
1 -   مرآۃ المناجیح ،۳‏ / ۳۵۵۔
2 -    مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الدعوات، باب الاستغفار والتوبۃ ،۵‏ / ۱۵۶، تحت الحدیث: ۲۳۲۶ ملخصا۔