نے مخلوق کو اپنی معرفت (یعنی فطرت اسلام) پر پیدا کیا، پھر شیطان نے انہیں بہکادیا۔ ‘‘ (1)
ہدایت طلب کرنے میں حکمت:
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ہدایت طلب کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس بات کا اِظہار ہو کہ بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا محتاج ہے اور اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے اس کا اعلان کرے۔ کیونکہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کو بغیر طلب کیے ہدایت عطا فرمادے تو بسا اوقات بندہ کہہ دیتا ہے: ’’ یہ ہدایت تو مجھے میرے پاس موجود علم کی بدولت ملی ہے۔ ‘‘ اور پھر وہ اسی وجہ سے گمراہ ہوجاتا ہے۔ لہذا جب اُس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ہدایت کا سوال کرلیا تو گویا اس نے اپنی عَبُودِیَّت یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بندہ ہونےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَبُوبِیَّت یعنی اس کے ربّ ہونے کا اعتراف کرلیا۔ یہ وہ عزت والا مقام ہے جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کو توفیق ملتی ہے۔ ‘‘ (2)
کھانے کے ساتھ پینے، لباس کے ساتھ رہائش کا ذکر:
مذکورہ حدیث پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اولاً ایک اُخْرَوی نعمت یعنی ہدایت کا ذکر فرمایا، اس کے بعد دو اہم ترین دُنیوی نعمتوں یعنی کھانے اور لباس کا ذکر فرمایا ۔پینے اور رہائش کا ذکر نہ فرمایا۔چنانچہ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیاس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بھوک کا ذکر کیا اور پیاس کا ذکر چھوڑ دیا کیونکہ عموماً کھانے کے ساتھ ساتھ پینا بھی ہوتا ہے اس لیے فقط بھوک کا ذکر فرمایا پیاس کا ذکر نہ فرمایا۔ اسی طرح پہننے کا ذکر کیا اور رہائش کا ذکر چھوڑ دیا کیونکہ عموماً لباس کے ساتھ ساتھ گھر بھی شامل ہوتا ہے کہ لباس سِتر چھپانے کے لیے ہوتا ہے اور گھر بھی اپنے آپ کو چھپانے کے لیے ہوتا ہے اس لیے فقط لباس کا ذکر فرمایا گھر یعنی رہائش کا ذکر نہ فرمایا۔ ‘‘ (3)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ، ۱ / ۳۳۲، تحت الحدیث۱۱۱۔
2 - دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ، ۱ / ۳۳۳، تحت الحدیث: ۱۱۱۔
3 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الدعوات، باب الاستغفار والتوبۃ ،۵ / ۱۵۵، تحت الحدیث: ۲۳۲۶ ماخوذا۔