Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
276 - 662
تمام لوگوں کی گمراہی سے کیا مرادہے؟ 
مذکورہ حدیث پاک میں فرمایا گیا:  ’’  تم سب گمراہ ہو سوائے اُس کے جسے میں ہدایت دوں ۔ ‘‘ عَلَّامَہ اَبُوْ زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینقل فرماتے ہیں : ’’ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تمام لوگ گمراہی پر پیدا ہوئے ہیں سوائے اس کے جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہدایت دے۔جبکہ مشہور حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت  یعنی دین ِاسلام پر پیدا ہوتا ہے۔تواس کا جواب یہ ہے کہ پہلی حدیث میں لوگوں کو اس گمراہی سے مُتَّصِفْ کیا گیا ہے جس پر بعثت رسول سے پہلے وہ لوگ تھےکہ اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُنہیں اُن کے حال پر چھوڑ دیتا اور وہ لوگ اُسی شہوت پرستی،  راحت اور توحید میں تَدَبُّر سے غفلت میں رہتے تو گمراہ ہوجاتے۔ ‘‘  (1) 
گمراہ ہونے کے دو2 معنی:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے گمراہ ہونے کے دو2معنی بیان فرمائے ہیں : (۱)   ’’ تم رسولوں کی بعثت سے پہلے شریعت سے غافل تھے۔ ‘‘  (۲)  ’’ اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّتمہیں تمہارے حال پہ چھوڑ دیتا تو تم حق سے بھٹک جاتے۔ ‘‘ اب پہلے معنی کا اعتبار کریں تو مطلب یہ ہوگا کہ  ’’ تم سب رسولوں کی بعثت سے پہلے شریعت سے غافل تھے ماسوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےاس پر ایمان لانے کی توفیق دےدی جو کچھ رسول لے کر آئے۔ ‘‘  اور دوسرے معنی کا اعتبار کریں تو مطلب یہ ہوگا کہ  ’’ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں تمہارے حال پہ چھوڑ دیتا تو تم سب حق سے بھٹک جاتے ما سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنی معرفت تک لے جانے والے امور میں غورو فکر اور جو احکامات اس کے پاس آئےاس پر عمل کی توفیق دےدے۔ ‘‘  دونوں معنی پر یہ حدیث اس مشہور حدیث کے منافی نہیں جس میں فرمایا کہ  ’’ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ‘‘ کیونکہ اس گمراہی سے مراد وہ گمراہی ہے جو بعد میں اس فطرت پر حاوی ہوجاتی ہے۔جیسا کہ اس حدیث سے بھی پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ



________________________________
1 -    شرح مسلم للنووی ، کتاب البر و الصلۃ۔۔ ۔الخ ، باب تحریم الظلم ،۸‏ / ۱۳۲، الجز ء السادس عشر۔