لقمن: ۱۳) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ بے شک شرک بڑا ظلم ہے۔ ‘‘ اکثر آیات میں ظلم سے یہی معنی یعنی شرک ہی مراد ہے البتہ بعض آیات میں گناہوں کی مختلف انواع کو بھی ظلم سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ ‘‘ (1)
ظلم کرنے کی ممانعت:
حدیثِ مذکور میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بندوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے منع فرمایا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ خود اُس ظالم سے مظلوم کا بدلہ لے گا۔چنانچہ علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں :ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو یعنی بعض بعض پر ظلم نہ کریں ۔ کیونکہ میں مظلوم کے ظلم کا اُس ظالم سے خود بدلہ لوں گا۔ جیسا کہ ایک حدیثِ قدسی میں ہے، ارشاد فرمایا: ”میں مظلوم کی مدد ضرور کرتا ہوں اگر چہ کچھ وقت کے بعد۔“ (یعنی وہ انہیں چھوڑنے والا نہیں بلکہ انہیں ڈھیل دیتا ہے۔) چنانچہ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ (۴۲) (پ۱۳، ابراھیم: ۴۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور ہرگز اللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے، انہیں ڈِھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ (2)
ظلم کی ممانعت پر تین فرامین مصطفےٰ:
(1) ’’ ظلم قیامت کے دن تاریکیاں ہیں ۔ ‘‘ (3) (یعنی ظلم کرنے والا بروز قیامت سخت مصیبتوں اور تاریکیوں میں گِھرا ہوگا۔) (2) ’’ مظلوم کی بددعا سے بچو کہ اس کے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مابین کوئی پردہ نہیں ۔ ‘‘ (4) (3) ’’ ظلم کرنے سے ڈرو کیونکہ ظلم کی سزا سے زیادہ خطرناک کسی اور گناہ کی سزا نہیں ۔ ‘‘ (5)
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ، ۱ / ۳۳۲، تحت الحدیث۱۱۱۔
2 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الدعوات، باب الاستغفار والتوبۃ ،۵ / ۱۵۵، تحت الحدیث: ۲۳۲۶ملتقطا۔
3 - بخاری، کتاب المظالم، باب الظلم ظلمات یوم القیامۃ، ۲ / ۱۲۷، حدیث: ۲۴۴۷۔
4 - بخاری، کتاب المظالم، باب الاتقا والحذر من دعوۃ المظلوم، ۲ / ۱۲۸، حدیث: ۲۴۴۸۔
5 - الکامل فی ضعفاء الرجال، ۷ / ۳۱۵۔