Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
274 - 662
 ظلم ہو سکتی ہی نہیں کیونکہ ظلم کے معنی ہیں دوسرے کی مِلک میں زیادتی کرنا،  یا کسی چیز کو بے محل استعمال کرنا ان دونوں سے پروردگار پاک ہے۔ کیونکہ ہر چیز اس کی ملک ہے اور جس کے استعمال کے لیے جو جگہ مقرر فرمادے وہی اس کا صحیح مَصْرف ہے،  اس کے اَفعال یا عدل ہیں یا فضل۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ میں ظلم سے مُنَزہ اور پاک ہوں ،  میرا کوئی کام ظلم نہیں ہوسکتا۔ بعض نے فرمایا کہ یہاں ظلم سے مراد بے قصور کو سزا دینا ہے۔ وَﷲُ تَعَالٰی اَعْلَمُ ‘‘  (1) 
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں ، علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے فرمایا کہ  ’’ اس کا معنی ہے کہ میں ظلم سے پاک ہوں اور برتر ہوں ۔ ‘‘  ظلم کا لفظ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حق میں استعمال کرنا محال ہے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس سے پاک ہے اور کیسے نہ ہو کہ ظلم کا معنی ہے :حد سے تجاوز کرنا اور اللہ  عَزَّ  وَجَلَّحد سے تجاوز کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اس پر کوئی حاکم نہیں جو اس کے لیے حدود قائم کرے وہ سب کا حاکم ہےاور ظلم کا معنی ہے کسی اور کی مِلک میں تصرف کرنا اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کسی کی مِلک میں تصرف کیسے کرسکتا ہے کیونکہ ہر چیز اسی کی ملکیت میں ہے وہ سارے جہان کا مالک ہے۔ ‘‘  (2) 
ظلم کی حرمت پر مَذاہب کا اِجماع:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ ظلم کی حرمت پر تمام مذاہب کا اجماع ہے کیونکہ جانوں کی حفاظت پر ان سب کا اتفاق ہے ۔ظلم کبھی نسب میں ہوتا ہے تو کبھی آبرو میں ،  کبھی مال میں ، کبھی عقل میں ، کبھی اِن سب میں واقع ہوتا ہے اور کبھی اِن میں سے بعض میں ۔ ‘‘  (3) 
سب سے بڑا ظلم  کیا ہے؟ 
سب سے بڑا ظلم شرک ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشادفرمایا: ( اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ (۱۳) )   (پ۲۱، 



________________________________
1 -   مرآۃ المناجیح ، ٣‏ / ۳۵۴۔
2 -   شرح مسلم للنووی ، کتاب البر و الصلۃ ۔الخ ، باب تحریم الظلم ،۸‏ / ۱۳۲، الجزء السادس عشر۔
3 -   دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ، ۱‏ /  ۳۳۲، تحت الحدیث۱۱۱۔