Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
273 - 662
 شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہوں اسے  ’’ حدیثِ نبوی  ‘‘ کہتے ہیں اور جس حدیث پاک میں کلام اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ہو لیکن الفاظ حضور نبی کریم،  رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہوں اسے  ’’ حدیثِ قدسی ‘‘  کہتے ہیں ۔مذکورہ حدیث پاک بھی حدیثِ قدسی ہے کہ اس میں کلام اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ہے اور الفاظ تاجدارِ رِسالت،  شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہیں ۔
ظلم کی تعریف:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  ’’ ظلم کے لغوی معنی  کسی چیز کو اس کے غیر مَحل میں استعمال کرنے کےہیں ۔جبکہ شرعاً کسی اور کے حق میں ناحق تَصَرُّف کرنا اورحَد سے تجاوز کرنا  ظلم کہلاتا ہے ۔ (1) 
مُفَسِّرشَہِیر،  مُحَدِّث کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ ظلم کے معنی ہیں ددسرے کی مِلک میں زیادتی کرنا یا کسی چیز کو بے محل استعمال کرنا۔ ‘‘  (2) 
عَلَّامَہ سَیِّد مِیْر شریف جُرْجَانِیْ قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورانیظلم کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ کسی چیز کو غیر محل میں رکھنا ظلم کہلاتا ہے۔ ‘‘  (3) 
ربّ تعالی پر ظلم کے حرام ہونے کا معنی: 
مذکورہ حدیث پاک کی ابتداء میں اس بات کا بیان ہے کہ ربّعَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کردیا ہے۔ ‘‘  اس سے کیا مراد ہے؟ چنانچہ مُفَسِّرشَہِیر،  مُحَدِّث کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ یہاں حُرمت سے مراد شرعی حُرمت نہیں ،  کیونکہ حق تعالی پر نہ کوئی حاکم ہے اور نہ اس پر شرعی اَحکام جاری ہیں بلکہ اس سے مراد ہے برتر ہونا،  مُنَزہ ہونا،  پاک ہونا،  ربّ تعالی کے لیے کوئی شے



________________________________
1 -   دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ، ۱‏ / ۳۳۱، تحت الحدیث: ۱۱۱۔
2 -   مرآۃ المناجیح ، ٣‏ / ۳۵۴۔
3 -   التعریفات  للجرجانی ،ص۱۰۲۔