رَبُّ العزت میں مقبول ہو۔
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں صدقہ کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ گھروالوں کے حقوق پامال نہ ہوں جیساکہ حضرت سَیِّدُنَا ابو عَقیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی کمائی کا نصف صدقہ کیا اور نصف اپنے گھروالوں پر خرچ کیا۔
(2) انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اَولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام یا دیگر نیک بندوں کا قُرب پانے کے لیے کوئی بھی نیک عمل کرنا جائز ہے۔
(3) صدقہ وخیرات کرنے سے مال میں کمی نہیں ہوتی بلکہ رزق میں مزید برکت ہوتی ہے جبکہ اِستطاعت کے باوجود راہِ خدا میں خرچ نہ کرنے والے کا مال بسا اوقات ضائع کردیا جاتا ہے۔
(4) راہِ خدا میں خرچ کرنے والے کے لیے سات سو 700گنا ثواب لکھا جاتا ہے۔
(5) صدقہ کرنے سے عمر میں برکت ہوتی اور بلائیں دُور ہوتی ہیں ۔
(6) صدقہ کرنا بُری موت سے بچاتا ہے بلکہ بُری موت کے ستر70 دروازے بند ہوجاتے ہیں ۔
(7) صدقہ کرنے سے آفتیں اور بلائیں دُور ہوتی ہیں ، بُرائی کے ستر 70دروازے بند ہوجاتے ہیں ، ستر 70 قسم کی بلائیں ٹال دی جاتی ہیں ۔
(8) صدقہ کرنے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا حاصل ہوتی ہے اور غضب الٰہی زائل ہوتا ہے۔
(9) صدقہ کرنے سے گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور مغفرت کردی جاتی ہے۔
(10) صدقہ کرنے سے بگڑے ہوئے کام بن جاتے ہیں ۔
(11) صدقہ کرنے سے آپس میں محبتیں بڑھتی اور نفرتیں دُور ہوتی ہیں ۔
(12) صدقہ کرنے والے کل بروزِ قیامت امان میں رہیں گے، آتشِ دوزخ ان پر حرام ہوگی اور سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے گروہ میں شامل ہوں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے رزق میں برکت عطا فرمائے۔