Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
269 - 662
 جو انڈے دیئے گئے تھے ان میں تین سالِم اور ایک ٹوٹا ہوا تھا۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ہر ایک کے بدلے دس دس عطا فرمائے۔ سالم کے عوض سالم اور ٹوٹے ہوئے کے بدلے ٹوٹےہوئے۔ ‘‘  (1)  
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
”اَعلٰی حضرت اِمَامِ اَھلِسُنَّت“کے18حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت  سے ملنے والے18مدنی پھول
(1)	صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان راہِ خدا میں صدقہ کرنے کے لیے مزدوری تک کیا کرتے تھے،  لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی حلال کمائی میں سے راہِ خدا میں دل کھول کر خرچ کریں ۔
(2)	ہر شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ کرنا چاہیے۔غریب اپنی غریبی کا لحاظ رکھے اور امیر اپنی امارت کو سامنے رکھتے ہوئے خرچ کرے۔
(3)	حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت ہی مالدار صحابی تھے اور اپنی مالداری کے حساب سے ہی صدقہ کیا کرتے تھے۔ (2) 
(4)	حضرت سَیِّدُنَا ابو عَقیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دُنیوی اعتبار سے مالدار نہ تھے لیکن محنت کرکے راہِ خدا میں صدقہ کرنے والے تھے اور ان کا صدقہ کرنا بارگاہِ رَبُّ العزت میں ایسا مقبول ہوا کہ اس پر آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
(5)	صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر طعن کرنا منافقین کا طریقہ ہے۔
(6)	صدقہ دینے والے یا کسی بھی نیک کام کرنے والے پر طعن نہیں کرنا چاہیے کہ کیا پتا کس کی نیکی بارگاہِ 



________________________________
1 -   روض الریاحین،ص۲۷۴۔
2 -   حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے راہ خدا میں خرچ کرنے کے واقعات اور دیگر معلومات کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 132 صفحات پر مشتمل کتاب’’حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔