سال کا اضافہ فرماديا ہے۔ ‘‘ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ قضا یعنی تقدیر کی تین ۳ قسمیں ہے۔ (۱) مُبْرَمِ حقیقی، کہ علمِ الٰہی میں کسی شے پر مُعَلَّق نہیں ۔ (۲) اور مُعَلَّقِ مَحْض، کہ صُحفِ ملائکہ میں کسی شے پر اُس کا معلّق ہونا ظاہر فرما دیا گیا ہے۔ (۳) اور مُعَلَّقِ شَبِیْہ بہ مُبْرَم، کہ صُحف ِملائکہ میں اُس کی تعلیق مذکور نہیں اور علمِ الٰہی میں تعلیق ہے۔ وہ جو مُبْرَمِ حقیقی ہے اُس کی تبدیلی نا ممکن ہے، اکابر محبوبانِ خدا اگر اتفاقاً اس بارے میں کچھ عرض کرتے ہیں تو اُنہیں اس خیال سے واپس فرما دیا جاتا ہے اور وہ جو ظاہر قضائے معلّق ہے، اس تک اکثر اولیا ءکی رسائی ہوتی ہے، اُن کی دُعا سے، اُن کی ہمّت سے ٹل جاتی ہے اور وہ جو متوسّط حالت میں ہے، جسے صُحف ِملائکہ کے اعتبا ر سے مُبرَم بھی کہہ سکتے ہیں ، اُس تک خواص اَکابر کی رسائی ہوتی ہے۔ حضور سیّدنا غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسی کو فرماتے ہیں : ’’ میں قضائے مُبرَم کو رد کر دیتا ہوں ۔ ‘‘ (2)
(3) ایک کے بدلے دس انڈے:
حضرت سَیِّدُنَا ابو جعفر بن خطاب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جو اپنے دَور کے اَبدال یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مقرر کردہ بہت بڑے ولی تھے، فرماتے ہیں کہ میرے دروازے پر ایک سائل نے صدا لگائی میں نے زوجہ سے پوچھا: ’’ تمہارے پاس کچھ ہے؟ ‘‘ اس نے جواب دیا: ’’ چار4 انڈے ہیں ۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اس سائل کو دے دو۔ ‘‘ زوجہ نے حکم کی تعمیل کی اور سائل انڈے لے کر چلا گیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میرے پاس ایک دوست نے انڈوں سے بھری ہوئی ٹوکری بھیجی۔ میں نے گھر والوں سےپوچھا: ’’ اس میں کل کتنے انڈے ہیں ؟ ‘‘ انہوں نے کہا: ’’ تیس30۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ تم نے توفقیر کو چار انڈے دیئے تھے، یہ تیس کس حساب سے آئے؟ ‘‘ زوجہ کہنے لگی: ’’ تیس انڈے سالِم ہیں اور دس ٹوٹے ہوئے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا شیخ علامہ یافعی یمنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ بعض حضرات اِس حکایت کے متعلق یہ بیان کرتے ہیں کہ سائل کو
________________________________
1 - نزھۃ المجالس، باب في فضل الصدقۃ،۲ / ۷۔
2 - بہارشریعت، ۱ / ۱۲،۱۴ حصہ۱ ملتقطا۔