Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
267 - 662
 پسندیدہ مال اسے دے دیا، وہ لڑکا اُس کے پاس کچھ عرصہ رہا ۔ پھر اسے اپنی ماں کی یاد ستائی تو اس نے بادشاہ سے جانے کی اجازت چاہی۔ 
بادشاہ نے کہا: ’’ ٹھیک ہے،  اپنے ساتھ اپنی بیوی اور مال کو بھی لے جاؤ۔ ‘‘  واپسی میں وہ لڑکا اسی شخص کے پاس سے گزرا تو اس نے پوچھا:  ’’ کیامجھے پہچانتے ہو؟  ‘‘ لڑکے نے نفی میں جواب دیاتواُس نے کہا: ’’ میں وہی ہوں جس نے تجھے فلاں فلاں بات بتائی تھی ۔ ‘‘ پھر وہ لڑکا سواری سے اُتر آیااور جو کچھ اس کے پاس تھا دو۲ حصوں میں تقسیم کر دیا۔ وہ شخص کہنے لگا:  ’’  میرے حصے کی ایک چیز ابھی باقی ہے۔ ‘‘  لڑکے نے پوچھا:  ’’ وہ کیا؟  ‘‘  تو وہ بولا: ’’ تیری بیوی۔ ‘‘ میں تجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم دیتا ہوں کہ اپنا وعدہ پوراکر۔ ‘‘  اس لڑکے نے کہا: ’’ پھر ہم اس کی تقسیم کیسے کریں ؟  ‘‘  اس شخص نے کہا: ’’ اس کو آرے سے چیر دو۔ ‘‘  لڑ کے نے حامی بھر لی کہ میں ایسا ہی کرتا ہوں ۔جب اس نے آرا اپنی بیوی کے سر پر رکھاتو وہ شخص کہنے لگا: ’’ رُک جاؤبے شک مجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے تیرے پاس بھیجا ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاسی طرح تیری حفاظت فرمائے جیسے تُو نے اُس سے کیے ہوئے عہد کو پورا کیا۔ ‘‘  پھراس شخص نے لڑکے کاسارا مال اُسے واپس کر دیا۔ (1) 
 (2) بیس 20سال عمر میں اضافہ:
ايک نوجوان حضرت سَیِّدُنَا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صحبت میں تھا کہ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو خبر دی کہ يہ شخص تين روز بعد مرجائے گا۔ اس بات نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو غمگین  کيالیکن آپ نے اس شخص کو تين روز بعد بھی صحيح سلامت پايا۔آپ کو اس بات سے بہت تعجب ہوا۔ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام دوبارہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے توعرض کی: ’’ میں اُس شخص کے پاس روح قبض کرنے گيا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے مجھ سے ارشاد فرمايا: ’’ يہ شخص اپنی عمر پوری کرنے سے ايک روز قبل باہر نکلا اور ايک مسکين کو دیکھا،  اس نے اسےبيس20 درہم دئیے۔اُس مسکين نے اسے دعا دی کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  تيری عمر میں برکت عطا فرمائے۔ پس اُس کی دعا قبول کرلی گئی اور میں نے ہر درہم کے بدلے اس کی عمر میں ايک ايک



________________________________
1 -   حکایتیں اورنصیحتیں ، ص۲۳۶۔