Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
266 - 662
 نے جواب دیا: ’’ کیوں نہیں ، لیکن وہ ہمیشہ بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا تھاتو میں نے بھی اسی راستے میں خرچ کر ڈالا۔ ‘‘  بیٹے نے پوچھا:  ’’ آپ نے میرے حصے کا سارا مال کیوں صدقہ کر دیااور اس میں سے کچھ نہ بچایا؟  ‘‘ اس کی ماں نے کہا:  ’’ تمہارے حصے کے دو سو 200درہم باقی ہیں ۔ ‘‘ تو لڑکے نے عرض کی:  ’’ لائیں ،  میرا مال مجھے دیں تاکہ اس کے ذریعے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کافضل تلاش کروں ۔ ‘‘ چنانچہ وہ اپنی ماں سے درہم لے کر گھر سے نکل کھڑا ہوا، چلتے چلتے ایک برہنہ مُردے کے پاس سے گزرا جو زمین پرپڑا ہوا تھا۔ اس نے سوچاکہ مال خرچ کرنے کی اس سے افضل جگہ کوئی نہیں ۔اس کے ‏لیے ایک سو اَسی 180 درہم کا کفن خرید کر اس کے کفن دفن کا اہتمام کیا اور قبر پر مِٹی ڈالی اوربقیہ بیس20 درہم لے کر روانہ ہوگیا۔
 راستے میں ایک شخص سے ملاقات ہوئی،  اس نے پوچھا:  ’’ کہاں کا ارادہ ہے؟  ‘‘  لڑکے نے جواب دیا:  ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کافضل تلاش کرنے نکلا ہوں ۔ ‘‘  اس نے کہا : ’’ اگر میں ایسی چیز کی طرف تیری رہنمائی کروں جس سے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فضل پائے تواُس میں سے نصف میرا ہو گا۔ ‘‘  لڑکا رضامند ہو گیا۔تو اس شخص نے کہا: ’’ اس شہر کی طرف چلے جاؤ،  وہاں تم ایک عورت کو پاؤ گے جس کے پاس ایک بلی ہو گی،  وہ اسے فروخت کر رہی ہو گی ،  تم اس سے بیس20 درہم میں خرید کر ذبح کر دینا اور آگ میں جلا دینا۔ پھر اس کی راکھ جمع کر کے دوسرے شہر کی طرف روانہ ہو جانا، وہاں کے بادشاہ کی بَصَارَت زائل ہو چکی ہے۔ تم بطورِ سُرمہ اُس کی آنکھوں میں راکھ لگانا اس کی بینائی لوٹ آئے گی۔ ‘‘ وہ لڑکا گیا اوربلی کی راکھ لے کر جب بادشاہ کے پاس آیا تو بادشاہ نے کہا: ’’ اِس کو اُس وادی میں لے جاؤجس میں سرمہ لگانے والے ہیں ، پھر اس کو بتانا کہ اگر اس نے مجھے ٹھیک کر دیا تو منہ مانگا انعام پائے گا اور ٹھیک نہ کر سکا تو میں اسے قتل کر دوں گا،  پھر اگروہ چاہے تو علاج کے ‏لیے آگے بڑھے اور چاہے تو وہیں سے لوٹ آئے۔ ‘‘ جب لڑکا وادی میں گیا تو وہاں سرمہ لگانے والوں کی لاشیں دیکھیں ، پھر بھی اس نے کہا: ’’ میں سرمہ لگاؤں گا۔ ‘‘ چنانچہ اس نے سرمہ لگایاتو بادشاہ کہنے لگا:  ’’ گویا مجھے کچھ کچھ نظر آرہا ہے۔ ‘‘ پھر دوسری مرتبہ لگایاتو بادشاہ نے کہا: ’’ اب میں کچھ دیکھ رہاہوں ۔ ‘‘  پھر جب تیسری مرتبہ سرمہ لگایاتو اس کی بینائی مکمل طور پر لوٹ آئی۔ بادشاہ نے کہا:  ’’ میں تجھ پر اس سے بڑھ کر احسان نہیں کر سکتا کہ تیری شادی اپنی بیٹی سے کر دوں ۔ ‘‘  پھر بادشاہ نے اس کی حاجت پوچھ کر اپنا سب سے