Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
265 - 662
گی۔  (7)  اُن کے شہر آباد ہوں گے۔  (8)  شکستہ حالی دور ہوگی۔  (9) خوف انديشہ زائل اور اطمينانِ خاطر حاصل ہوگا۔  (10) مدد الٰہی شامل ہوگی۔  (11) رحمتِ الٰہی ان کے ليے واجب ہوگی۔  (12)  ملائکہ اُن پر درود بھیجیں گے۔  (13) رضائے الٰہی کے کام کريں گے۔  (14) غضبِ الٰہی ان پرسے زائل ہوگا۔  (15)  ان کے گناہ بخشے جائيں گے،  مغفرت ان کے لیے واجب ہوگی،  اُن کےگناہوں کی آگ بجھ جائے گی۔  (16) خدمتِ اہل دين میں  صدقہ سے بڑھ کر ثواب پائيں گے۔  (17) غلام آزاد کرنے سے زيادہ اجر لیں گے۔  (18) ان کے ٹیڑھےکام درست ہوں گے۔  (19) آپس ميں محبتیں  بڑھیں گی جو ہر خير و خوبی کی متبع ہيں ۔  (20) تھوڑے خرچ میں بہت کا پیٹ بھرے گا ۔  (21)  اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے حضور درجے بلند ہوں گے۔  (22) مولیٰ تبارک و تعالٰی ملائکہ سے ان کے ساتھ مباہات فرمائےگا۔  (23) روزِ قيامت دوزخ سے امان میں رہيں گے،  آتش دوزخ ان پر حرام ہوگی۔  (24) آخرت میں احسانِ الٰہی سے بہرہ مند ہوں گے کہ نہايتِ مَقاصد وغايتِ مُرادات ہے۔  (25) خُدا نے چاہا تو اُس مبارک گروہ میں ہوں گے جو حضور پُر نور سيد عالَم سرورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نعل اقدس کے صدقے ميں سب سے پہلے داخل جنّت ہوگا۔ ‘‘  (1)                
صدقے سے متعلق تین حکایات
 (1) امتحان میں کامیاب ہونے والا نوجوان:
    حضرت سیِّدُنا عِکرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک مالدارشخص تھا جو اپنا مال بھلائی کے کاموں میں خرچ کرتا تھا،  وہ اپنی بیوی اور ایک بیٹے کو چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گیاتو اس کی بیوی نے دل میں کہا: ’’ میں اپنے شوہر کے چھوڑے ہوئے مال کے ‏لیے اس سے افضل جگہ نہیں پاتی جہاں وہ خرچ کیا کرتا تھا۔ ‘‘ لہٰذا اس نے تمام مال صدقہ کر دیا سوائے دو سو 200دِرہَموں کے جو اس نے اپنے بیٹے کے ‏لیے جمع کر رکھے تھے۔ جب بچہ بڑا ہوا تو اس نے پوچھا: ’’ اے میری ماں !میرا باپ کون تھا؟  ‘‘  اس نے جواب دیا:  ’’ تیرا باپ بنی اسرائیل کے معزَّزین میں سے تھا۔ ‘‘  بیٹے نے پھر پوچھا: ’’  کیا اس نے کوئی مال چھوڑا ہے؟  ‘‘  ماں 



________________________________
1 -    فتاویٰ رضویہ،۲۳‏ / ۱۵۳ ملخصا۔