(1) حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا: ’’ ہرروز دو2 فرشتے اُترتے ہیں ، ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! خرچ کرنے والے کو جزا عطا فرما۔ اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اپنا مال روک کر رکھنے والے کا مال ضائع فرما۔ ‘‘ (1)
(2) حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کے معاف کرنے کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر انکساری کرتاہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔ ‘‘ (2)
(3) حضرت سَیِّدُنَا خُرَیْم بن فاتِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں کچھ خرچ کرے اس کے لیے سات سو گنا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ ‘‘ (3)
صدقہ کرنے کے پچیس25فوائد:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!راہِ خدا میں صدقہ کرنے کے جہاں اُخروی فوائد ہیں وہیں دنیا میں بھی اس کی بے شمار برکتیں ہیں ۔اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدددین وملت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے فتاویٰ رضویہ شریف میں راہِ خدا میں صدقہ وخیرات کرنے، مسلمانوں کو کھانا وغیرہ کھلانے سے متعلق ساٹھ احادیث بیان فرمائیں اور پھر ان کے درج ذیل پچیس25دُنیوی واُخروی فوائد بیان فرمائے :
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم سے بُری موت سے بچیں گے، ستّر دروازے بُری موت کے بند ہوں گے۔ (2) عُمريں زیادہ ہوں گی۔ (3) صدقہ وخیرات کرنے والوں کی گنتی بڑھے گی۔ (4) رزق کی وسعت مال کی کثرت ہوگی، صدقےکی عادت سے کبھی محتاج نہ ہوں گے۔ (5) خير و برکت پائيں گے۔ (6) آفتیں بلائيں دور ہوں گی، بُری قضا ٹلے گی، ستر70دروازے برائی کے بند ہوں گے، ستر 70قسم کی بلائیں دور ہوں
________________________________
1 - مسلم، کتاب الزکاۃ، باب فی المنفق والممسک، ص۵۰۴، حدیث: ۱۰۱۰۔
2 - مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب استحباب العفو والتواضع، ص۱۳۹۷، حدیث: ۲۵۸۸۔
3 - ترمذی، کتاب فضائل الجھاد، باب ما جاء فی فضل النفقۃ۔۔۔الخ، ۳ / ۲۳۳، حدیث: ۱۶۳۱۔