فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ (پ۱۰، التوبۃ: ۷۹)
کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے۔ (1)
رسول اللہ کے قُرب کے لیے صدقہ کرنا :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ابو عَقیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے صدقہ کرنے کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’ اس دوسرے صاع کو راہِ خدا میں خرچ کرکے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قُرب حاصل کر سکوں ۔ ‘‘ معلوم ہوا کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ کے کسی بھی مقبول بندےکے تقرب کے لیے کوئی عمل کرنا بالکل جائز اور باعث اجر وثواب ہے۔ اگر اس عمل میں کوئی قباحت ہوتی تو نہ ہی سَیِّدُنَا ابو عَقیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود یہ کام کرتے اور نہ ہی کسی کے سامنے بیان فرماتے، نیز رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود اس بات سے آپ کو منع فرمادیتے۔ اسی طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے جن دوستوں کے سامنے اس بات کا تذکرہ فرمایا وہ بھی آپ کو منع کردیتے کہ ایسا کرنا تو جائز نہیں ہےلیکن کسی نے بھی اِس کا اِنکار نہ فرمایا اور نہ ہی منع کیا جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ کوئی بھی عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ کے مقبول بندوں کے تَقَرُّب کے لیے کرنا بالکل جائز ہے۔ جو لوگ اس بات پر مسلمانوں کو کافرومشرک ٹھہراتے ہیں ان کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ شرک تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات ، صِفات یا عِبادت میں کسی کو شریک ٹھہرانے کا نام ہے جبکہ کسی نبی یا ولی کا تَقَرُّب حاصل کرنے کے لیے کچھ کرنے میں نہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات میں کسی کو شریک ٹھہرانا ہے، نہ اس کی صفات میں اور نہ ہی عبادت میں تو پھر یہ عمل شرک کیسے ہوگیا؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین (2)
راہِ خدا میں خرچ کرنے کےفضائل:
راہ ِخدا میں خرچ کرنے کے فضائل پر تین اَحادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں :
________________________________
1 - عمدۃ القاری، کتاب الزکاۃ، باب اتقوا النار ولو بشق تمرۃ۔۔۔الخ،۶ / ۳۸۰، تحت الحدیث: ۱۴۱۵۔
2 - نزہۃ القاری، ۲ / ۹۰۶ماخوذا۔