Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
262 - 662
صحابۂ کرام پر طعن کرنے والے منافقین:
جب حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنا صدقہ لے کربارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو منافقین بولے : ’’ یہ ریاکارہے۔ ‘‘  عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ یہ منافقین مُعَتِّبْ بن قشیر اور عبد الرحمٰن بن نَبْتَل تھے۔ ‘‘  (1) 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی راہ میں اپنا ذاتی مال صدقہ کرنا ان مقدس ہستیوں کی اعلیٰ صفات میں سے ہے، مگر منافقین نے اسے عیب شمار کیا،  معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جیسی عظیم ہستیوں میں عیب تلاش کرنا اور انہیں بیان کرنا منافقین کا طریقہ ہے۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے عُشَّاق اُن کے عُیُوب نہیں بلکہ اُن کی اعلیٰ صفات کو بیان کرتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ
ایک صاع صدقہ کرنے والے صحابی:
ایک صاع صدقہ کرنے والے صحابی حضرت سَیِّدُنَا ابو عَقیل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے۔ حضرت سَیِّدُنَا ابن جریررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سَیِّدُنَا ابو عَقیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ایک روایت ذکر کی ہے،  فرماتے ہیں کہ میں نے کھجور کی شاخوں کا ایک گٹھر اپنی پیٹھ پر لاد کر دو صاع کھجوروں کے عوض ایک مقام سے دوسرے مقام پر پہنچایا۔ پھر دو صاع میں سے ایک صاع گھروالوں کو دے دیا تاکہ وہ اپنی حاجت پوری کریں اور دوسرا صاع بارگاہ رسالت میں لایا ہوں تاکہ اس کے ذریعے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قرب حاصل کر سکوں ۔ سرکارِ نامدار،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’  اسے صدقے پر ڈال دو۔ ‘‘  اس پر کچھ لوگوں نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس مسکین کے صدقے سے غنی ہے۔اس پر قرآن پاک کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ
ترجمہ ٔ کنزالایمان:وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں



________________________________
1 -   فتح الباری، کتاب الزکاۃ، باب اتقوا النار ولو بشق تمرۃ۔۔۔الخ،۴ ‏ / ۲۴۵،تحت الحدیث: ۱۴۱۵۔