Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
261 - 662
مَزدوری کرکے صدقہ کرنا:
شارح حدیث علامہ سید محمود احمدرضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ حضور سید عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبان مبارک سے صدقہ و خیرات کی ترغیب و تلقین پاکر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْناپنی وُسعت و ہمت کے مطابق خیرات کرتے تھے۔ بعض صحابہ امیر تھے وہ بڑی بڑی رقمیں راہِ خدا میں دیتے تھے اور جو غریب تھے وہ بھی محنت مزدوری کرکے کچھ کمالاتے اور اس میں سے راہِ خدا میں خرچ کرتے تاکہ صدقے کے ثواب سے محروم نہ رہ جائیں ۔ ‘‘  (1) 
کثیر مال خرچ کرنے والے صحابی:
حدیث مذکور میں ہے کہ حضورنبی رحمت،  شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ترغیب سے ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کثیر مال صدقہ کیا۔ وہ صحابی کون تھے اور انہوں کتنا مال صدقہ کیا؟  اس کے متعلق فقیہ اَعظم حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق اَمْجَدِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ  ’’ یہ حضرت عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے کہ چار ہزار4000 یا آٹھ ہزار8000 (درہم) پیش فرمایا۔ ‘‘  (2)  
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’  تاجدارِ رِسالت،  شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صدقے کی ترغیب دی تو حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ چار ہزار درہم لے آئے جو اس دن آپ کے کل اثاثے کا نصف تھا اور اسی دن حضرت سَیِّدُنَا عاصم بن عدی بن عَجلان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سو 100 وسق  (کم وبیش چھ سو پندرہ 615مَن) کھجوریں صدقہ کیں ۔ ‘‘  (3) 



________________________________
1 -   فیوض الباری،۶‏ / ۲۸۔
2 -   نزہۃ القاری، ۲‏ / ۹۰۵۔
3 -   عمدۃ القاری، کتاب الزکاۃ، باب اتقوا النار ولو بشق تمرۃ۔۔۔الخ،۶ ‏ / ۳۷۹، تحت الحدیث: ۱۴۱۵۔