Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
260 - 662
حدیث نمبر :110	  		
صَحَابۂ کِرَام کے صدقہ کرنے کا اَنداز
عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍ واَلْاَنْصَارِیِّ الْبَدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:لَمَّا نَزَلَتْ اٰیَۃُ الصَّدَقَۃِ کُنَّا نُحَامِلُ عَلٰی ظُہُوْرِنَا،  فَجَاءَرَجُلٌ فَتَصَدَّقَ بِشَیْء ٍ کَثِیْرٍ فَقَالُوْا: مُرَائٍ،  وَجَاءَ رَجُلٌ اٰخَرُ فَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ فَقَالُوْا:اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنْ صَاعِ ہَذَا! فَنَزَلَتْ:  (اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ )  اَلْاٰیَۃَ. (1)  
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا ابومَسْعُود عُقْبَہ بِن عَمرو اَنصارِی بَدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے کہ جب آیتِ صدقہ نازل ہوئی تو ہم لوگ مزدوری کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک شخص آیا اور اس نے کثیرمال صدقہ کیا تو منافقین بولے  : ’’ یہ ریا کار ہے۔ ‘‘  ایک دوسرا شخص آیا،  اس نے ایک صاع صدقہ کیا تو منافقین نے کہا:  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے ایک صاع سے مستغنی یعنی بے پر واہ ہے۔ ‘‘  تو اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ  (پ۱۰،  التوبۃ: ۷۹) 
 ترجمہ ٔ کنزالایمان:وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے۔
آیتِ صدقہ سے مراد کونسی آیت ہے؟ 
مذکورہ حدیث پاک میں ہے کہ جب ’’ آیت صدقہ ‘‘  نازل ہوئی تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اپنی استطاعت کے مطابق بارگاہ رسالت میں اپنا اپنا صدقہ پیش کیا۔ یہ  آیت صدقہ سورۂ توبہ کی آیت نمبر۱۰۳ ہے،  جس میں ارشاد ہوتا ہے:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْؕ-  (پ۱۱،  التوبۃ: ۱۰۳)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اے محبوب ان کے مال میں سے زکوٰۃ تحصیل  (وصول)  کرو جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو۔ (2)



________________________________
1 -   بخاری، کتاب الزکوۃ، باب اتقوا النار ولو  ۔۔۔الخ،۱‏ / ۴۷۸، حدیث: ۱۴۱۵ بتغیر قلیل۔
2 -   ارشاد الساری، کتاب الزکاۃ، باب اتقوا النار ولو بشق تمرۃ۔۔۔الخ،۳ ‏ / ۶۰۰، تحت الحدیث: ۱۴۱۵۔