(1) سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نہایت ہی صابر وشاکراورجرأت وبہادری والے صحابی تھے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی شجاعت کے جوہر دکھاتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا ۔
(2) اپنے نیک اِرادے اور پختہ عزم کا اِظہار کرنا جائز ہے اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت ہے جیسا کہ سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے پختہ اِرادے کو ظاہر فرمایا۔
(3) کوئی بھی اِرادہ یا نیت کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ کیا میں اس پر عمل بھی کرسکوں گا یا نہیں ؟ جیساکہ سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فقط اپنے اس ارادے کو تو ظاہر فرمایا کہ وہ کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے لیکن یہ نہ فرمایا کہ وہ کیا کریں گے۔
(4) غزوہ اُحد میں مسلمانوں کو جس وقتی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کی وجہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم کو سمجھنے میں اجتہادی خطا کا واقع ہونا تھا، اس سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اپنے دینی پیشوا کے حکم پر سختی سے عمل پیرا ہونا چاہیے ۔
(5) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی تمام لغزشوں کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے معافی کا پروانہ جاری فرمادیا اور تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی مغفرت فرمادی گئی ہے، لہٰذا اب ان مقدس ہستیوں پر کسی کو کسی بھی طرح کا طعن کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے، ہمیشہ ان کے اچھے اوصاف ہی بیان کیے جائیں گے۔
(6) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے جہاد کرتے ہوئے اپنی جان کو شہادت کے لیے پیش کرنا نہ صرف جائز ہےبلکہ بہت بڑی سعادت ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین کی سربلندی کے لیے اپنی جان، مال ، آل اولاد سب کچھ قربان کرنے کی توفیق عطا فرمائے، راہِ خدا میں آنے والی تمام تکالیف پر صبر اور برداشت کی طاقت عطا فرمائے، ہمیں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سچی پکی محبت عطا فرمائے، اُن کے اَوصافِ حمیدہ بیان کرکے اپنے ایمان کو تازگی بخشنے کی سعادت نصیب فرمائے، ہمیں گستاخانِ صحابہ کے شر سے محفوظ فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد