طرح حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے دشمن کے وار اپنے جسم پر سہے اور تلواروں ، نیزوں اور تیروں کے اسّی 80 سے زائد زخم اپنے جسم پر کھاتے ہوئے بھی صبر وتحمل کا دامن نہ چھوڑا میں اس قسم کے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ ‘‘ (1)
جہاد میں جان کا نذرانہ پیش کرنا:
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ جہاد میں جان کا نذرانہ پیش کرنا جائز ہے اور وعدہ پورا کرنابہت فضیلت کاکام ہے اگرچہ اسے پورا کرنا اتنا مشکل ہوکہ جان چلی جائے ۔نیز شہادت کی طلب ا ُس آیت کے خلاف نہیں جس میں اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس حدیث پاک میں حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی فضیلت ظاہر ہے اورآپ کے اَوصافِ حمیدہ مثلاً اِیمان کی پختگی، تقویٰ ووَرَع یعنی پرہیز گاری کی انتہاء اور قوتِ یقین یعنی توکل بھی ظاہر ہے۔ ‘‘ (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ” عثمانِ غَنی“ کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) غزوۂ بدر کفار ومسلمین کے درمیان وہ پہلا معرکہ ہے جس میں رحمت عالم، نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفس نفیس شریک ہوئے ورنہ اس سے پہلے بھی جنگ ہوچکی تھی۔
(2) حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنہایت ہی جلیل القدر صحابی رسول تھے، آپ کا شمار اللہ عَزَّوَجَلَّکے ان برگزیدہ بندوں میں ہوتا تھا جو کسی بات پر قسم اٹھالیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّان کی قسم کو پورا فرمادیتا ہے۔
________________________________
1 - ارشادالساری، کتاب الجھاد و السیر، باب قول اللہ عزوجل: من المؤمنین رجال صدقوا۔۔۔الخ،۶ / ۳۳۲،تحت الحدیث: ۲۸۰۵۔
2 - عمدۃالقاری، کتاب الجھاد والسیر، باب قول اللہ تعالی: من المؤمنین رجال صدقوا۔۔۔الخ،۱۰ / ۱۱۲، تحت الحدیث : ۲۸۰۵۔