Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
257 - 662
 ہیں :  ’’ آپ کا یہ کلام حقیقت پر محمول کیا جاسکتا ہے وہ اس طرح کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کے لیے شہید ہونا مُقَدَّر فرمادیا تھا،  اسی بناء پر آپ کو جنت کی خوشبو سونگھا دی گئی ہو اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ جنت کی خوشبو پانچ سو 500سال کی مَسَافت سے سُونگھی جاسکتی ہے۔ ‘‘  (1) 
 (2) عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ ممکن ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس جنت کا تصور کیا ہو جو شہداء کے لیے تیا رکی گئی ہے اور آپ کے ذہن میں یہ بات ہو کہ وہ جنت اسی مقام پر ہے جہاں قتال کیا جارہا ہے تو اس صورت میں آپ کے جنت کی خوشبو والے کلام کا معنی یہ ہوگا کہ بے شک میں جانتا ہوں کہ شہداء کی جنت کاحصول اسی مقام پر ہے جہاں جنگ کی جارہی ہے اور اس کے ساتھ ہی آپ کے دل میں اس جنت کو حاصل کرنے کا اشتیاق پید اہوگیا ۔ ‘‘  (2) 
سَیِّدُنَاانس بن نضر کی جرأت وبہادری وصبر وتحمل:
حضرت سَیِّدُنَا سعد بن مُعاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے گفتگو کرنے کے بعد حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ میدانِ کارزار میں کود پڑے اور  جواں مَردِی سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کے جسم پر تلواروں ،  نیزوں اور تیروں کے اسّی 80سے زائد زخم آئے حتی کہ مشرکین نے آپ کے کان اور ناک کاٹ  کر مُثلہ کردیا۔حضرت سَیِّدُنَا سعد بن مُعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپ کی یہ حالت دیکھ کر شہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی: ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جو حضرت سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کر دکھایا میں وہ نہیں کرسکتا تھا۔ ‘‘  عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد اَلْقُسْطُلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قول کا یہ مطلب ہے کہ جس جرأت اور بہادری سے حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پیش قدمی کی اور مشرکین سے قتال کیا،  میں اس کی طاقت نہیں رکھتا باوجود یکہ میں بھی طاقتور اور بہادر ہوں لیکن جس



________________________________
1 -   اکمال المعلم، کتاب الامارۃ، باب ثبوت الجنۃ للشھید،۶ ‏ / ۳۲۶، تحت الحدیث: ۱۹۰۳۔
2 -   فتح الباری، کتاب الجھاد و السیر، باب قول اللہ عزوجل: من المؤمنین رجال صدقوا۔۔۔الخ،۷‏ / ۲۰،تحت الحدیث: ۲۸۰۵۔