وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖۚ-حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَؕ-مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَۚ-ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْۚ-وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْؕ-وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ (۱۵۲) (پ۴، ال عمران: ۱۵۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور بے شک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا اور نافرمانی کی بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا اور پھر تمہارا منہ ان سے پھیر دیا کہ تمہیں آزمائے اور بے شک اس نے تمہیں معاف کردیا اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے۔
اس آیت مبارکہ میں چند باتوں کا واضح بیان ہے، ایک تو شرکاء غزؤہ اُحد کی غلطی کی معافی اور ان کے مومن ہونے کی تصریح اور یہ کہ یہ معافی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل ہے جو وہ مؤمنوں پر فرماتا ہے ۔بعض بدباطن اور بدعقیدہ لوگ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی اسی اجتہادی خطا کی بنا پر ان پر مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سب وشتم اور طعن کرتے ہیں جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے لیے معافی کا پروانہ جاری فرمادیا۔اب اللہ عَزَّوَجَلَّکے معاف فرما دینے کے بعد بھی جو لوگ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر طعن کریں ان کا منکرِ قرآن ہونا واضح ہے۔ (1) اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے لوگوں کے شرسے تمام مسلمانوں کو محفوظ فرمائے، اور ہمیں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سچی محبت عطا فرمائے۔ آمین
سَیِّدُنَا انس بن نضر اور جنت کی خوشبو:
حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا سامنا جب حضر ت سَیِّدُنَا سعد بن مُعاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہوا تو انہوں نے فرمایا: ’’ اے سعد! مجھے اُحد پہاڑ کی جانب سے جنت کی خوشبو آرہی ہے۔ ‘‘ شارحین حدیث نے اس کے دو 2معنی بیان کیے ہیں : (1) حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّاب فرماتے
________________________________
1 - فیوض الباری،۱۱ / ۱۸۷ماخوذا۔