Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
255 - 662
پچاس50تیر اندازوں کا ایک دستہ وہاں متعین کیا جن پر حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن جُبَیْر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو مقررفرمایا۔اس دستے کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ خصوصی ہدایات جاری فرمائی تھیں کہ وہ اس جگہ کو نہ چھوڑیں ۔ جنگ کی ابتداء میں ہی کفار کو سخت ذلت کا سامنا کرنا پڑا اور تمام کافر بھاگ کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر تیر انداز دستے والے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگئے۔ 
دراصل اس دستے میں اس بات پر اختلاف ہوگیا کہ مال غنیمت جمع کیا جائے یا نہیں ،  بعض نے کہا کہ نہ کیا جائے کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس جگہ سے ہٹنے کو منع فرمایا ہے،  لیکن بعض نے کہا کہ چونکہ کفار بھاگ گئے ہیں اور جنگ ختم ہوگئی ہے لہٰذا کوئی حرج نہیں اس لیے وہ مال غنیمت جمع کرنے لگے۔ان تیر اندازوں کا اپنی جگہ سے ہٹنا تھاکہ حضرت سَیِّدُنَا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو اس وقت ایمان نہ لائے تھےموقع پاکر پیچھے سے حملہ کر دیا ۔اس اچانک حملے کے نتیجے میں حضرت سَیِّدُنَا مُصْعَب بن عُمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ شہید ہوگئے،  چونکہ آپ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بہت مُشابہ تھے اس لیے شور مچ گیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شہید ہوگئے ہیں ،  اس خبر سے مزید بدحواسی پھیل گئی،  بعد اَزاں سَیِّدُنَا کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نظر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر پڑگئی اور انہوں نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبالکل خیریت سے ہیں ۔یہ سن کر ہر طرف سے جان نثار ٹوٹ پڑے،  کفار بھی اسی طرف مُتَوجہ ہوگئے،  صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گرد دائرہ بنالیا اور دفاع کرنے لگے،  اس میں مُتَعَدَّد صحابی شہید ہوگئے ۔بالآخر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پہاڑ کی چوٹی پر تشریف لے گئے جہاں دشمن نہ آسکتے تھے ۔
الغرض اس جنگ میں مسلمانوں کو جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اس کی وجہ یہی ہوئی کہ سَیِّدُنَا عبداللہ بن جُبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے ساتھی اپنی جگہ سے ہٹ گئے۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی اس اجتہادی خطا کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے قرآن پاک کی سورۂ آلِ عمران میں تفصیل سے بیان فرمایا اور پھر ان تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی اس خطا کے لیے معافی کا بھی اعلان فرمادیا۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: