Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
254 - 662
سَیِّدُنَا انس بن نضر کاعہد:
حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دو جہاں کے تاجور،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے عرض کی کہ ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!  میں غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکا تھا لیکن اب اگر مجھے یہ سعادت نصیب ہوئی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ ‘‘  علامہ قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  ’’ حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا یہ کلام اس بات کو شامل ہے کہ آپ نے خود پر  لازم کرلیا تھا کہ آپ کسی بھی حال میں جہاد میں شریک ہوں گے اور اپنی قدرت کے مطابق ہمت و حوصلے سے کام لیں گے نیز آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس بات کی وضاحت نہیں فرمائی کہ وہ کیا کریں گے؟  کیونکہ آپ کو اس بات کا خدشہ تھا کہ کسی بات کو اپنے اوپر لازم کرکے اگر آپ نہ کر پائے تو یہ اچھی بات نہیں اور اس معاملے میں آپ  اپنی قوت و ہمت پر بھروسہ نہ کرتے ہوئے خاموش ہوگئے۔ اسی وجہ سے ایک روایت میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ  ’’ آپ اس سے زیادہ کچھ اور بولنے سے گھبرائے۔  ‘‘ لیکن آپ کی نیت سچی تھی اورآپ اپنے ارادے میں پختہ تھے اسی وجہ سے آپ کے حق میں نازل ہونے والی آیت مبارکہ میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کے ارادے کو عہد کا نام دیا۔ ‘‘  (1) 
جنگ اُحد میں مسلمانوں کے میدان چھوڑنے کی وجہ:
حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہےکہ جنگ اُحد میں مسلمان پیچھے ہٹ گئے اور حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں معذرت پیش کی۔اس کا پس منظر کچھ یوں ہے رحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ سات سو 700 صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تھے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُحد پہاڑ کو پشت پر رکھ کر صف بندی کی۔حضرت سَیِّدُنَا مُصْعَب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو جھنڈا عطا فرمایا،  سَیِّدُنَا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بھی ایک دستے کا افسر مقرر فرمایا،  سَیِّدُنَا حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بغیر زِرہ والےدستے کی کمان عطا فرمائی۔ اُحُدپہاڑ کی پشت سے حملے کا خطرہ تھا اس لیے آپ نے 



________________________________
1 -    دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ ، ۱‏ / ۳۲۷، تحت الحدیث: ۱۰۹۔