بن نضر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی قسم پوری ہوگئی اور آپ کی بہن حضرت سَیِّدَتُنَا رُبَیع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے دانت توڑے جانے سے بچ گئے۔رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس موقع پر ارشادفرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ کسی معاملے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم کھالیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُن کی قسم کوپورا فرمادیتاہے ۔ ‘‘ شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ حضوراَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِرشاد گرامی کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالٰی کے بندوں میں سے کچھ ایسے مقبولانِ بارگاہِ الٰہی ہیں کہ اگر کسی ایسی چیز کے بارے میں جو بظاہر ہونے والی نہ ہو ، اللہ تعالٰی کے یہ بندے قسم کھالیں کہ ہوجائے گی تو اللہ تعالٰی اُن مُقَدَّس بندوں کی قسموں کو ٹوٹنے نہیں دیتابلکہ اس نہ ہونے والی چیز کو موجود فرمادیتاہے تاکہ ان کی قسم پوری ہوجائے۔ ‘‘ (1)
کیا جنگ بدر پہلی جنگ تھی؟
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہوا کہ حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے تو آپ نے محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی کہ میں مشرکین سے لڑی جانے والی پہلی جنگ میں شریک نہ ہوسکا تھا۔ یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جنگ بدر سن ۲ہجری میں ہوئی جبکہ مسلمان اس سے پہلے بھی جنگ کرچکے تھے تو پھر سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جنگ بدر کو پہلی جنگ کیوں کہا؟ عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ غزوؤ بدر وہ پہلا معرکہ ہے جس میں تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفس نفیس خود قتال کے لیے نکلے اسی وجہ سے حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے پہلی جنگ کہا ورنہ مسلمان اس سے پہلے بھی جنگ کرچکے تھے لیکن اس جنگ میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفس نفیس شریک نہ ہوئے تھے۔ ‘‘ (2)
________________________________
1 - کراماتِ صحابہ،ص۱۹۸بتصرف۔
2 - فتح الباری، کتاب الجھاد و السیر، باب قول اللہ عزوجل: من المؤمنین رجال۔۔۔الخ،۷ / ۱۹، تحت الحدیث: ۲۸۰۵۔