فرمائے ہیں :
(1) یہ آیت مبارکہ حضرت سَیِّدُنَا اَنس بن نَضْررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی۔
(2) بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک ستّر ۷۰ اَصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنا وعدہ پورا کردیا اور اس میں کوئی کمی نہ کی۔ (1)
سَیِّدُنَا انس بن نضر کی کرامت:
حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے چچا حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت ہی بہادر اور جاں باز صحابی ہیں ، مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنی شہادت کا علم ہوچکا تھا اور شہادت سے قبل انہیں جنت کی خوشبوآرہی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نہایت ہی متقی وپرہیزگار صحابی تھے، بارگاہِ الٰہی میں بہت بلند مقام حاصل تھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکاشمار اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ان خاص الخاص بندوں اور ولیوں میں ہوتا تھا جو کسی بات پر قسم اٹھالیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّان کی قسم کو پورا فرماتا ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بہن سَیِّدَتُنَا رُبَیعرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے جھگڑا وتکرار کرتے ہوئے ایک اَنصاری لڑکی کے دو اگلے دانت توڑ ڈالے ۔ لڑکی والوں نے قصاص کا مطالبہ کیا اور حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قرآن مجید کے حکم کے مطابق یہ فیصلہ فرمادیاکہ رُبَیع بنت نضرکے دانت قصاص میں توڑ دیئے جائیں ۔ جب حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پتہ چلا تو وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میری بہن کےدانت نہیں توڑے جائیں گے۔ ‘‘ رحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اے انس بن نضر! تم کیا کہہ رہے ہو؟ قصاص تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کتاب کا فیصلہ ہے۔ ‘‘ یہ گفتگوابھی ہورہی تھی کہ لڑکی والے دربارِنبوت میں حاضر ہوئے اورکہنے لگے: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! قصاص میں رُبَیع کا دانت توڑنے کی بجائے ہمیں دِیَت یعنی مالی مُعاوضہ دلایاجائے۔ ‘‘ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، اس طرح سَیِّدُنَا انس
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ ، ۱ / ۳۲۸، تحت الحدیث: ۱۰۹۔