اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ نے مشرکین سے جو پہلا قتال کیا (یعنی جنگ بدر) میں اس میں حاضر نہ تھا لیکن اب اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے مشرکوں کے خلاف جنگ کرنے کی توفیق بخشی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ دیکھے گا کہ میں کس طرح قتال کرتا ہوں ۔ ‘‘ چنانچہ جب جنگِ اُحد کا دن آیا اور مسلمان پیچھے ہٹ گئے تو حضر ت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رَبُّ الْعِزَّت میں عرض کی: ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مسلمانوں نے جو کچھ کیا میں اس کی معذرت چاہتا ہوں اور جو مشرکین نے کیامیں اس سے بیزار ہوں ۔ ‘‘ پھر جب وہ آگے بڑھے تو سامنے سے حضرت سَیِّدُنَا سعد بن مُعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آرہے تھے۔سَیِّدُنَااَنس بن نَضْر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے کہا: ’’ جنت اے سعد! میرے والد نضر کے ربّ کی قسم! مجھے اُحد پہاڑ کی جانب سے جنت کی خو شبو آرہی ہے۔ ‘‘ (یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے، بعدازاں ) حضرت سَیِّدُنَا سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جو حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کر دکھا یا وہ میں نہیں کرسکتا تھا۔ ‘‘ سَیِّدُنَا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ ہم نے ان کے جسم پر اَسّی 80 سے زیادہ تلوار، نیزے اور تیر کے زخم پائے اور ہم نے دیکھا کہ انہیں شہید کردیا گیا تھا اور مشرکین نے ان کا مُثلہ کردیا تھا ۔ (یعنی ان کے کان، ناک وغیرہ کاٹ ڈالے تھے) فقط ان کی ہمشیرہ نے انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ہم گمان کرتے تھے کہ یہ آیت مبارکہ ان کے یا ان جیسے دیگر اصحاب کے حق میں نازل ہوئی ہے:
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ- (پ۲۱، الاحزاب: ۲۳)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچّا کردیا جو عہد اللہ سے کیا تھا۔
حدیث پاک کےبعض الفاظ کے معانی: لفظ”لَیُرِیَنَ“اور” لَیَرَیَنَّ“دونوں طرح روایت کیا گیا ہے، پہلی صورت میں اس کا معنی ہوگا:” اللہ عَزَّ وَجَلَّ ضرور لوگوں کو دکھا دےگا۔“اور دوسری صورت میں معنی ہوگا : ”اللہ عَزَّوَجَلَّ ضرور دیکھے گا۔“
مذکورہ آیت مبارکہ کا شانِ نزول:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے اس آیت مبارکہ کے دو شان نزول بیان