سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دَم کرنا:
حضرتِ سَیِّدُنا عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت سَیِّدُنَااَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوئے توحضرت سَیِّدُنَاثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُن سے عرض کی: ’’ اے ابو حمزہ ! میں بیمار ہوں ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَااَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ کیا میں تمہیں وہ دَم نہ کروں جو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیا کرتے تھے؟ ‘‘ عرض کی: ’’ کیوں نہیں ۔ ‘‘ توحضرت سَیِّدُنَا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ دعا پڑھ کر اُنہیں دَم کیا: ’’ اَللّٰھُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْھِبَ الْبَاسِ اِشْفِ اَنْتَ الشَّافِی لَا شَافِی اِلَّااَنْتَ شِفَآءً لَا یُغَادِرُسَقَمًا یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اے لوگوں کے ربّ! اے تکالیف کو دُور کرنے والے!شفا عطافرما، توہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ، ایسی شفا عطا فرما جو اپنے بعد بیماری نہ چھوڑے ۔ ‘‘ (1)
حضرت جبریل عَلَیْھِ السَّلَام کا دم کرنا:
اُمُّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ جب حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیمار ہوئے تو حضرت جبریل عَلَیْھِ السَّلَام نے آکر اِن کلمات کے ساتھ دم کیا: ’’ بِسْمِ اللہِ یُبْرِیْکَ وَمِنْ کُلِّ دَاءٍ یَشْفِیْکَ وَمِنْ شَرِّحَاسِدِِاِذَاحَسَدَوَشَرِّ کُلِّ ذِی عَیْنٍیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے وہ آپ کو تندرست کر دے گا اور ہر بیماری سے شفا عطا فرمائے گااور ہر حاسِد کے حَسَد سے جب و ہ حَسَد کرے اور نظر لگانے والی آنکھ سے محفوظ رکھے گا۔ ‘‘ (2)
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اپنے اہلِ خانہ پر دم کرنا:
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ ’’ جب رسولِ اَکرم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اہلِ خانہ میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آ پ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مُعَوَّذَات
________________________________
1 - بخاری کتاب الطب ،باب رقیۃ النبی،۴ / ۳۲، حدیث: ۵۷۴۲۔
2 - مسلم ،کتاب السلام ،باب الطب والمرضی والرقی،ص۱۲۰۱، حدیث: ۲۱۸۵۔