Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
249 - 662
یہ سانس کی مالا اب بس ٹوٹنے والی ہے
غفلت سے مگر دل کیوں بیدار نہیں ہوتا
دل ہائے گناہوں سے بیزار نہیں ہوتا
مغلوب شہا نفس بدکار نہیں ہوتا
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا  ’’ ابو بکر ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)	عمر کا طویل ہونا بندے کے اِختیار میں نہیں لیکن زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنا بندے کے اختیار میں ہے لہٰذا زندگی کے قیمتی لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی کوشش کیجئے۔
(2)	جس طرح ایک تاجر اپنا سرمایہ ایسی جگہ لگاتا ہے جہاں اُسے زیادہ سے زیادہ منافع ہو اسی طرح بندے کو اپنی زندگی اُن اعمال میں صَرف کرنی چاہیے جن سے آخرت میں زیادہ فائدہ ہو۔
(3)	طویل عمر بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ایک نعمت ہے لہذا اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کیے جائیں ۔
(4)	عمر کا طویل ہونا مؤمن کے لیے اس لیے بھی بہت بڑی نعمت ہے کہ اگرچہ وہ زندگی میں نیک اعمال پر استقامت نہ پا سکے مگر اس کا ایمان تو سلامت ہے اور یہ خود بڑی نعمت ہے۔
(5)	نامۂ اَعمال میں فقط نیکیاں ہی نیکیاں ہوں کوئی گناہ نہ ہو یہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکا خاصہ ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہیں یا اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے ان نیک بندوں کی صفت ہوسکتی ہے جنہیں وہ اپنی رحمت سے گناہوں سے محفوظ فرمالے،  جس کی نیکیاں اور گناہ دونوں برابر ہوں وہ بھی خوش نصیب ہے لیکن ان معنی میں کہ اس کے نامۂ اعمال میں کچھ نہ کچھ تو نیکیاں ہیں ۔