سورۃُالملک میں ارشاد ہوتا ہے:
الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ- (پ۲۹، الملک:۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے۔
زندگی بہت مختصر ہے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ دو آیات کے علاوہ بھی قرآنِ پاک میں دیگر مقامات پر تخلیقِ انسانی یعنی انسان کی پیدائش کا مقصد بیان کیاگیا ہے۔ یقینا زندگی بہت مختصر ہے، جو شخص اس مختصر سی زندگی میں اچھے اور نیک اعمال کرنے میں کامیاب ہوگیا، اپنے قیمتی وقت کو فضول برباد اور ضائع کرنے کی بجائے اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا والے کاموں میں خرچ کیا، یقیناً ایسا شخص دنیا و آخرت دونوں میں خوش وخرم رہے گا، لیکن جس نے اپنا قیمتی وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا والے کاموں کی بجائے گناہوں میں برباد کردیا تو اسےمرنے کے بعد پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ بہت خوش نصیب ہے وہ شخص جس نے موت سے پہلے پہلے آخرت کی تیاری کرلی۔
یہ سانس کی مالا اب بس ٹوٹنے والی ہے:
حضرتِ سَیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ جلدی کرو! جلدی کرو!!تمہاری زندگی کیا ہے ؟ یہی سانس تو ہیں کہ اگر رُک جائیں تو تمہارے ان اعمال کا سلسلہ بھی منقطع ہوجائے جن سے تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قُرب حاصل کرتے ہو۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس شخص پر رحم فرمائے جس نے اپنا محاسبہ کیا اور اپنے گناہوں پر چند آنسو بہائے۔پھر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پارہ16سورہ مریم کی یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:
اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ (۸۴) (پ۱۶، مریم: ۸۴)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں ۔
حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوالِی فرماتے ہیں : ’’ یہاں گنتی سے سانسوں کی گنتی مُراد ہے۔ ‘‘ (1)
________________________________
1 - احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، الباب الثانی فی طول الامل۔۔۔الخ،۵ / ۲۰۵ ۔