میں اُجور کی زیادتی اعمال کی زیادتی کا سبب ہے اور اگریہ (اعمال کی زیاد تی ) نہ بھی ہو پھر بھی ایمان پر استقامت تو حاصل ہے ہی اور اس سے بڑھ کر اور کیاسعادت ہوگی؟ یہاں پر یہ اعتراض کرنا درست نہیں ہے کہ کبھی کبھی ایمان سلب بھی تو کرلیا جاتا ہے؟ کیونکہ اگرعلمِ الٰہی میں اس کا برا خاتمہ لکھا جاچکا ہے تو وہ تو ہوکر ہی رہے گا ، عمر کے کم یا زیادہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پس (ایمان کی سلامتی کے ساتھ) اگر عمر طویل ہوگی تو نیک اعمال اور درجات میں اضافہ ہوگا اور اگر عمر کم ہوگی تو نیک اعمال بھی کم ہوں گے۔ ‘‘ (1)
زندگی کے لمحات اَنمول ہیرے ہیں :
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے” اَ نمول ہیرے“ صفحہ 3پر شیخ طریقت امیر اہلسنت ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃ فرماتے ہیں :ہماری زندگی کے لمحات انمول ہیرے ہیں اگران کو ہم نے بے کار ضائع کردیا تو حسرت و ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔
دن بھر کھیلوں میں خاک اُڑائی
لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسان کو ایک مُقرَّرہ وَقت کے لیے خاص مقصد کے تحت اِس دنیا میں بھیجا ہے۔ چنانچِہ ارشاد ہوتا ہے:
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ (۱۱۵) (پ۱۸، مؤمنون:۱۱۵)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں ۔
”خزائن العرفان“ میں اس آیتِ مقدّسہ کے تحت لکھا ہے: ’’ اور (کیا تمہیں ) آخِرت میں جزا کے لیے اٹھنا نہیں بلکہ تمہیں عبادت کے لیے پیدا کیا کہ تم پر عبادت لازم کریں اور آخِرت میں تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ تو تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دیں ۔ ‘‘ موت وحیات کی پیدائش کا سبب بیان کرتے ہوئے پارہ ۲۹
________________________________
1 - فیض القدیر،حرف الخاء،۳ / ۶۴۰، تحت الحدیث: ۴۰۳۹۔