کی عمر درازہو اور اس کی نیکیاں زیادہ ہوں ہر دن اس کی نیکیاں بڑھائے، ایسا شخص بہت ہی خوش نصیب ہےاور جس کی نیکیاں گناہوں کے برابر ہوں وہ نمبر دوم کا خوش نصیب ہے۔ایسا شخص مشکل سے ملے گا جو زندگی میں کبھی کوئی گناہ نہ کرے، یہ شان حضراتِ انبیاء کرام کی ہے یا خاص اولیاء اللہ کی، یہاں وہ ہی معنی مراد ہیں جو ہم نے عرض کیے۔ ‘‘ (1)
عمل کے اچھا ہونے کے معنی:
حدیث میں فرمایا گیا کہ ’’ بہترین شخص وہ ہے جس کی عمر لمبی اور عمل اچھا ہو ۔ ‘‘ کیونکہ جس کی عمر لمبی ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت میں گزرے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے زیادہ قریب ہوگا اور آخرت میں اس کے درجے بھی بلند ہوں گےکیونکہ جب بندہ نیک اعمال کرتا چلا جائے گا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اتنا قریب ہوتا چلا جائے گا لیکن یہ اسی صورت میں ہوگا جبکہ وہ تمام اعمال کو اخلاص اور اچھے طریقے سے ادا کرے۔چنانچہ علّامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اپنی لمبی عمر میں انسان وہ کام کرے جو اُسے ربّ تعالٰی کے قریب کر نے والے اور اس کی رِضا تک پہنچا نے والے ہوں اور عمل کے اچھا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس عمل کو تمام شرائط و اَرکان کے ساتھ مکمل طور پر ادا کرے۔ ‘‘ (2)
لمبی عمر نیک اَعمال میں اِضافے کا باعث:
حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ عمر طویل ہونے کے ساتھ ساتھ نیک اَعمال کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ جیسے جیسے عمر بڑھتی جائے نیک اَعمال میں بھی اضافہ ہوتا جائے ۔کیونکہ جیسے جیسے عمر طویل ہوتی جائے گی نیک اعمال کے سبب اس کے اجر وثواب اور درجات میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ عَلَّامَہْ عَبْدُالرَّءُوْفْ مَنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی مذکورہ حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ جس کے عمل کثیر ہوں گے تو جب جب اس کی عمر بڑھے گی اس کا اجر بھی بڑھے گا اور اس کے درجات بھی بڑھیں گے کیونکہ زندگی
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح، ۷ / ۹۷۔
2 - دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ ، ۱ / ۳۲۶، تحت الحدیث: ۱۰۸۔