کے اختیار میں ہے تو انسان کو چاہیے کہ اپنی عمر اور اپنے وقت کو غنیمت جانے اور اِنہیں اُن کاموں میں صرف کرے جس سے اُخروی فائدہ ہو۔اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ لوگوں میں بہترین شخص وہ ہے جس کی عمر لمبی اور عمل اچھا ہو کیونکہ انسان کی مثال اِس دنیا میں نیک اَعمال کے ساتھ اُس تاجر کی سی ہے جو سامانِ تجارت کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے تاکہ تجارت کر کے منافع کمائے اور اپنے وطن سلامتی کے ساتھ اور خوب نفع کماکر لوٹے تو وہ بھلائی کو پالیتا ہے۔ اسی طرح انسان کی عمر اس کا سرمایہ ہے، اس کی سانسیں اور اَعضاء و جَوارِح کا کام کرنا اس کا نقد ہے اور نیک اعمال اس کا منافع ہیں ، پس جتنا اس کا سرمایہ یعنی عمر زیادہ ہوگی، نفع یعنی نیک اَعمال بھی اتنے زیادہ ہوں گے اور آخرت اس کا وطن ہے۔ پس جب وہ اپنے وطن لوٹے گا تو اپنے منافع یعنی نیک اعمال کا پورا پورا ثواب پائے گا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے پاک کلام قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ (۲۹) (پ۲۲، فاطر: ۲۹)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:بیشک وہ جو اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم رکھتے اور ہمارے دیئے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں ہرگز ٹوٹا (نقصان) نہیں ۔
اورجس نے اس بات کو نہیں سمجھا اور اپنے سرمایہ یعنی عمرکو ضائع کردیا تو وہ نفع یعنی عمل کی توفیق نہیں پاتا۔قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى۪-فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ (۱۶) (پ۱، البقرۃ: ۱۶)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے۔ (1)
مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ جس
________________________________
1 - شرح الطیبی ، کتاب الدعوات ، باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ ، ۴ / ۴۰۶، تحت الحدیث: ۲۲۷۰۔