Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
243 - 662
مدنی گلدستہ
”جنت البقيع“کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1)	سجدہ صرف وہی مقبول ہے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا کے لیے اخلاص کے ساتھ کیا جائے۔
(2)	حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کثرت سے سجدے کرنے کا حکم دیا ہے،  اب بندے کی مرضی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کرے چاہے زیادہ رکعتیں ادا کرکے یا سجدۂ شکر کی کثرت کرکے یا سجدۂ تلاوت کرکے۔
(3)	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ کرنے سے ایک درجہ بلند ہوتا اور ایک صغیرہ گناہ معاف ہوتا ہے۔
(4)	سجدہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا قُرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
(5)	سجدے کے ذریعے بندہ ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنی عاجزی اور اِنکساری کا اظہار کرتا ہے اور ربّ کو اپنے بندے کا یہ فعل بہت پسند ہےکہ وہ  اس کے سامنے اپنی محتاجی کا اعتراف کرے۔
(6)	سجدہ، نماز وغیر نماز دونوں میں عبادت ہے جبکہ قیام و رکوع،  بغیر نماز کے عبادت نہیں ۔
(7)	مبلغین وواعظین ودرس دینے والوں کو چاہیے کہ نیک اعمال کا حکم دیتے ہوئے ان کے فضائل بھی ذکر کریں کہ اُن فضائل کو سن کر اُن  اعمال کی طرف رغبت زیادہ ہوگی۔
(8)	صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور رحمت عالَم،  نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہر ہر ادا کو ادا کرتے تھے جیساکہ حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کیا۔
(9)	سجدے کی حالت میں بندے کو ربّعَزَّ  وَجَلَّ کا قُرب زیادہ حاصل ہوتا ہے لہٰذا اس میں دعائیں بھی زیادہ مقبول ہوتی ہیں ۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی بارگاہ میں سجدوں کی  کثرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے،  سجدوں کی برکت سے ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔