Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
242 - 662
جوانی کے سجدے قابل رشک:
حضرت سیِّدُنا یوسف بن اَسباطرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ  (بڑھاپے میں )  فرمایاکرتے تھے: ’’ اے نوجوانوں کے گروہ! مرض سے پہلے صحت میں جلدی کرو،  میں صرف اس شخص پر رشک کرتا ہوں جورکوع وسجود کوپورا کرتا ہے جبکہ میرے اور سجدے کے درمیان رُکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ ‘‘  (1)  (یعنی میں بوڑھا ہوگیا ہوں ۔) 
کسی چیز پر افسوس نہیں ہوتا:
حضرت سَیِّدُنَا مَسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہفرماتے ہیں : ’’ مجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لیے سجدہ کرنے کے سوا دنیا کی کسی چیز کے چھوٹنے پر افسوس نہیں ہوتا۔ ‘‘  (2) 
سجدے میں قرب الٰہی کی زیادتی:
حضرت سیِّدُنا عُقبہ بن مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہفرماتے ہیں : ’’ بندے کی کوئی خصلت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو اس سے زیادہ پسند نہیں کہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّسےملاقات کو پسند کرے اوربندہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ کرنے کے علاوہ کسی گھڑی میں اس کا زیادہ قرب نہیں پاتا۔ ‘‘  (3) 
سجدے میں دعائیں زیادہ مانگو:
حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ’’ بندہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب سجدے کرتا ہے،  لہٰذا اس میں دعائیں زیادہ مانگو۔ ‘‘  (4) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -    المجالسہ و جواھر العلم ،الجزء الثالث ، ۱‏ / ۱۷۳،حدیث: ۳۳۱  ۔
2 -   شعب الایمان للبیھقی ،باب فی الصلوات، تحسین الصلاۃ والاکثار منھا۔۔۔الخ،۳‏ / ۱۵۳،حدیث: ۳۱۷۸ ۔
3 -    کتاب الزھد لابن المبارک، باب الذی یجزع من الموت۔۔۔الخ، ص ۹۴ ،حدیث ۲۷۹۔
4 -    ابو داود ،کتاب الصلوۃ ،باب الدعا فی الرکوع و السجود،۱‏ / ۳۳۳،حدیث: ۸۷۵ ۔