سجدوں کی کثرت عظیم مَراتب کا سبب:
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان سجدوں کی کثرت سے بندے کو عظیم مرتبہ عطا فرمائے گا اور درگاہِ قُرب و عظمت میں اعلیٰ مقام پر فائز فرمائے گا۔ یہ سجدہ معاصی یعنی گناہوں اور سیئات یعنی بُرے اَعمال کی معافی کا سبب بھی ہے، رفع درجات یعنی درجات کی بلندی اور زیادتِ حسنات یعنی نیکیوں میں زیادتی کا موجب بھی اور یہ سجدہ ان دونوں طریقوں کے ذریعے بندے سے ضرر و نقصان کو دور کرکے اسے نفع سے ہمکنار کرتا اور فلاح و نجات سے بہر ور کرتا ہے۔ ‘‘ (1)
سجدے کے سبب گناہوں کی معافی:
حدیث پاک میں سجدہ کرنے کی فضیلت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سجدہ کرنے والے کا ایک گناہ معاف کردیا جاتاہے۔یہاں کونسا گناہ مراد ہے؟ مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیر، حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ معلوم ہوا کہ سجدہ گناہوں کاکفارہ ہے مگر گناہوں سے مرادحقوق ﷲ کے گناہ صغیرہ ہیں ، حقوق العباد ادا کرنے سے اور گناہ کبیرہ توبہ سے معاف ہوتے ہیں ۔ ‘‘ (2)
سجدے سے متعلق بزرگانِ دین کے اَحوال و اَقوال
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سجدہ ایک عظیم عبادت ہے، بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنسجدوں کی کثرت فرمایا کرتے تھے۔ چند بزرگانِ دین کے احوال پیش خدمت ہیں :
روزانہ ایک ہزار 1000سجدے:
حضرت سیِّدُنا علی بن عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے متعلق منقول ہے کہ آپ ہر روز ایک ہزار1000 سجدے کرتے تھے اور لوگ انہیں ”سجَّاد“ یعنی بہت زیادہ سجدے کرنے والا کہتے تھے۔ (3)
________________________________
1 - اشعۃ اللمعات، کتاب الصلاۃ، باب السجود و فضلہ ،۱ / ۴۲۵۔
2 - مرآۃ المناجیح،۲ / ۸۵۔
3 - صفۃ الصفوۃ، باب علی بن عبداللہ بن عباس،۱ / ۷۶، الجزء الثانی ۔